درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 145 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 145

۱۴۵ فانی فی اللہ لوگوں کے تمام اعمال ذات باری تعالٰی کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔اس لئے ان سے کسی ناجائز کام کے سرزد ہونے کا امکان نہیں ہوتا ہے عاشقان در عظمت مولی فنا به غرق دریائے توحید انہ وفا کین و مهرشان همه بهر خداست : قهر نشان گر هست آن قبر ضد است آنکه در عشق احد محو و فناست : هرچه زواید زذات کبریاست فانی است و تیرا و تیر حق است به صید او در اصل نخچیر متقی است آنچه می باشد خدا را از صفات خود و مد در فانیاں آن پاک ذات خوئے حق گردد در ایشاں آشکار : از جمال و از حلال کردگار نطق شای لطف خدا هم قهرشان به قبر حق گردو نہ بچوں دیگراں فانیان هستند از خود دورتر : چون ملائک کارکن از دادگر گر فرشتہ قبض جانے می کند : یا کرم برنا تو انے مے کند این همه سختی و تمری از خداست : اور خواہش ہائے نفس خود جدا است ترجمہ : عاشق لوگ مولی کی عظمت میں فنا ہوتے ہیں، اور وفا کی وجہ سے دریائے توحید میں فرق ہوتے ہیں۔انکی دوستی اور دشمنی سب خدا کے لئے ہے، اگر انہیں کبھی غصہ آتا ہے تو وہ خدا کا غصہ ہی ہوتا ہے جو شخص اس ذات واحد کے عشق میں محو اور فنا ہو، اسے جو کچھ بھی سرزد ہو وہ خدا کی طرف سے ہی ہوتا ہے ایسا عاشق ، فانی فی اللہ ہے۔اس کا تیر خدا کا تیر ہے، اسکا شکار در اصل خدا کا شکار ہے۔خدا تعالیٰ کی جوصفات ہیں وہ پاک ذرات ان صفا کو فانی فی اللہ لوگوں میں خود پھونک دیتا ہے۔خدا کی صفات ان میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔خواہ وہ خدا کی جمالی صفات ہوں یا جلالی ہوں۔انکی نمر می خدا کی نرمی ہوتی ہے ، اور انکی سختی خدا کی سختی بن جاتی ہے۔ان کا معامہ) دوسروں کی طرح نہیں ہوتا۔وہ فانی ہیں اور اپنی خودی سے بالکل دور، فرشتوں کی طرح خدائے منصف کے کارند سے ہیں۔اگر فرشتہ کسی کی جان نکالتا ہے یا کسی کمزور پر رہبانی کرتا ہے۔یہ بختی اور نمی خدا کی طرف سے ہی ہوتی ہے وہ فرشتہ تواپنی خواہش سے بال لگا ہے۔