درثمین فارسی کے محاسن — Page 123
١٢٣ عرفان الہی ایمان کی ترقی یافتہ حالت کو عرفان کہتے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود کا خاص موضوع ہے۔اس کے حصول کے متعلق آپ نے بہت کچھ لکھا ہے۔چند اقتباسات ذیل ملاحظہ فرمائیے :- سچی تڑپ گه بدل با شدت خیالِ خدا این چنین ناید انه تو استغنا از دل و جاں طریق او جوئی : وزیر صدق سوئے او پوٹی هر که را دل بود بدلدار : خبرش پر سدا ز خبر دارے گر نباشد تقائے محبو بے ؛ جوید انہ نزد یار مکتوبے بے دلارام نایدش آرام گر برویش نظر گئے بکلام آنکه داری بدل محبت او به نایدت صبر جز محبت او ܀ ترجمہ: اگر تیرے دل میں خدا کی لگن ہوتی، تو تجھ سے اتنی لا پروائی سرزد نہ ہوتی تو دل و جان سے اس کا راسته تلاش کرتا۔اور پور سے اخلاص سے اس کی طرف دوڑتا۔جس کا دل کسی محبوب سے لگا ہو، تو وہ ضرور کسی واقف کار سے اس کا پتا پوچھتا ہے۔اگر محبوب سے طلاقات ممکن نہ ہو وہ اس کے خط کا متمنی رہتا ہے۔مجوب کے بغیر اسے آرام نہیں آتا کبھی اس کے دیدار کے لئے بیقرار ہوتا ہے اور کبھی اس کے کلام کے لئے جس کی محبت تیرے دل میں ہو۔اس کی صحبت کے بغیر تجھے صبر نہیں آتا۔