درثمین فارسی کے محاسن — Page 97
94 دُنیا کی بے ثباتی دنیا کی بے ثباتی کا احساس انسان کی طرز فکر اور طرز عمل پر نہایت گہرا اثر ڈالتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے کلام میں اس کا بار بار ذکر کیا ہے اور بڑے موثر انداز میں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ نہ یہ گھر پائیدار ہے، اور نہ اس کی خوشیاں پائیدار ہیں اگر تم لازوال خوشیوں سے بہرہ ور ہونا چاہتے ہو ، تو اس لازوال ہستی سے تعلق استوار کرو جس کو فنا نہیں۔چنانچہ آپ ایک نظم میں فرماتے ہیں اسے دل مده ال بد ادار ے کر حسنش دائم است به تا سریر دائمی یابی زخیر المحسنين دور می ده اسی طرح ایک طویل نظم میں ارشاد ہوتا ہے : لے بدنیائے دوں دل مبند، اسے جواں : تماشائے آل بگذرد ناگہاں بدنیا کیسے ، جاودانه نماند : به یک رنگ، وضع زمانه نماند بدست خود انه حالت دردناک سپردیم، بسیارکس را به خاک چو خود دفن کردیم ، خلقے کثیر : چرا یاد ناریم، روز اخیر زخاطر چرا یادشان افگنیم نه ما آنہیں جسم و روئیں کتنی ہے ے ترجمہ : اس مجوب کے سوا جس کا حسن ازوال ہے کسی کو دل م ہے اس خدا خیر امنین کی رات کو دائمی خوشی حاصل کرے۔لہ ترجمہ اسے جوانی اس ذیل دنیا سے دل نہیگا۔اس کا اچانک ختم ہوجاتا ہے۔دنیا کوئی یہ نہیں یا نرما کی حالت ایک جیسی رہتی ہے ہم نے درد بھروں کے تم اپنے ہاتھوں ہی سے لوگوں کو ان کے سپرد کیا ہے پس جب ہم نے بہت کی و یا کاتای تیمی کی یاد میں بنانے سے کیاکیوں والی اولاد کے نے یواین کانسی کے ن