درثمین فارسی کے محاسن — Page 98
ایک اور جگہ فرمایا : ايها الجامحون في الشهواة : اكثر واذكر هادم اللذاة ܀ رفتنی است این مقام فنا دل چه بندی درین دو روزه سرا؟ عمر اول به بیں کجا رفت است؟ رفت و بنگر ز تو چه ها رفت است؟ پارۀ عمر رفت در خوردی : پاره را بر کشی بردی! تازه رفت و بماند پس خورده به دشمنان شاد و یار آزرده صد چو تو مجھے بخورد زمین : سر ہنوزت بر آسمان از کیس بشنو از وضع عالم گذران : چون کند از زبان حال بیان کیں جہاں با کسے وفا نہ کند و نه کند صبر تا جدا نه کند گر بود گوش بشنوی صداه : از دل مرده درون تباه که چرا رو بهت فتم ز حندا؟ به دل نهادم در آنچه گشت جدا ترجمہ: اے نفسانی خواہشات کی طرف کہنے والو ! ان لذتوں کو برباد کر نیوالی موت کو بہت یاد کیا کرو۔یہ نانی دنیا فنا کا مقام ہے، توتو اس دو دن قیام کر نیوالی سرائے سے کیا دل لگاتا ہے، اپنی پہلی عرکو دیکھ وہ کہاں گئی ؟ وہ تو گئی مگر دیکھ داس کے جانے کے ساتھ تجھ سے کیا کچھ جاتا رہا۔عمرکا ایک حصہ و بچپن کے کھیل کود میں گزر گیا۔ایک حصہ تو نے سرکشی می گنوا دیا تازہ جوانی کا بہترین دوں توختم ہوچکا ہے اب صرف بڑھاپے کا باسی چاکھچا حصہ ہوگیاہے۔ہمیں خوش ہیں اوروقت آزردہ ہے تیرے جیسے سینکڑوں سکروگوں کو یہ زمین کاگئی اور کینہ کی وجہ سے ابھی تک تیرا سر آسمان پرہے۔اس فانی دنیا کی چال پیڑن دھر وہ کس طرح زبان حال سے پکا ر ہی ہے کہیہ جہاں کسی سے وفا نہیں کرتا اور اس چکیں ہیں پڑتا جب تک کسی کی اپنے سے الگ نہ کرنے۔اگر تیرے کان میں تو تجھے اس مردہ دل تباہ حال کی سینکڑوں میں سنائی دیں گی جس کا دل رخدا سے برگشتہ ہو کی و جہ تباہ ہو چکا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہائے افسوس میں نے کیوں خدا سے منہ موڑا۔اور اس چیز سے دل لگایا جو مجھ سے جدا ہوگئی ہے