درثمین فارسی کے محاسن — Page 96
बष ܀ بے یقین دین و کیش بیهوده است : بے یقین بیچ دل نیا سوده است بے یقین و تجلیات یقین : کس نرسته زرام دیو لعین بے یقین از گنه نه درست کسے دانم احوال شیخ و شباب کیسے ای خدائے کہ ذات اوست نہاں دورتر از دو چشیم عالمیان بر وجودش یقین جهان آید؟ : گر نظر نیست گفتگو باید زیں سبب ہست حاجت گفتار : گر میتر نمے شود دیدار بے کلام د شهادت آیات بہ کے یقیں مے شود که بست کی ذات؟ دور ثمین (۳۲-۳۲۶) لہ ترجمہ : یقین کے بغیر دین اور مذہب بالکل فضول ہیں یقین کے بیر کئی دل بھی ملٹی نہیں ہوسکا۔یقینا یقینی جلوں کے بغیر کوئی شخص شیطان لعین کے پھندے سے آزاد نہ ہو سکا۔یقین کے بغیر کوئی شخص گناہ سے نہیں چھوٹ سکا میں بہت سے بوڑھوں اور جوانوں کے حالات سے واقف ہوں۔وہ خدا جس کی ہستی پوشیدہ ہے۔اور دنیا والوں کی آنکھوں سے بہت دور ہے۔اس کے موجود ہونے پر کیسے یقین آئے۔اگر دیدار نہیں تو گفتگو تو ہو۔اسی لئے گفتار دالہام) کی ضرورت ہے۔جبکہ دیدار میٹر نہ ہو کلام اور دوسری نشانیوں کی موجودگی کے بغیر کس طرح یقین آئے کہ وہ ہستی یعنی خدا ہے ؟