احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 54
54 5۔4 لئے طیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں مگر حق میرے ساتھ جائے گا“ (روحانی خزائن مطبوعه لندن ۱۹۸۴ جلد ۲۰ ، تذکرۃ الشہا دتین صفحه ۵۲) اور بالآخر وہ دن آگیا۔۔۔۔۔آج سے ٹھیک ایک سو سال قبل 14 جولائی 1903۔۔۔جب اس بزرگ اور فاضل مردِ خدا پر کفر کا فتویٰ لگا دیا گیا۔ناک میں چھید کر کے رسی ڈالی گئی اور اس حالت میں ایک جانور کی طرح کھینچ کر سر عام مقتل لایا گیا۔کیا دردناک نظارہ تھا کہ ظالم اس معصوم انسان پر ہر طرف سے گالیاں اور لعنتیں برسا رہے تھے جبکہ آسمان سے فرشتے اس بزرگ انسان کی استقامت اور عظمت پر آفرین آفرین کہہ رہے تھے۔وہ ایسا کوہ وقار تھا کہ کسی لالچ یا خوف کے آگے ذرا بھی خم نہ ہوا۔ظالموں نے اس معصوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر ہر طرف سے پتھروں کی بارش ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مقدس انسان پتھروں کے ڈھیر میں دب کر نظروں سے غائب ہو گیا۔شہید مرحوم نے شہادت کا جام پی کر ابدی زندگی حاصل کر لی۔اپنی جان دے کر جرات و استقامت کی ایسی مثال قائم کی جس نے آنے والوں کو یہ نمونہ دیا کہ کس طرح ایمان اور حق و صداقت کی خاطر جانوں کے نذرانے دیئے جاتے ہیں۔شہادت کی جو شمع اس شہید مرحوم نے روشن کی وہ تاریخ احمدیت کے ہر دور کو منور کرتی رہی ہے۔آج تک ۲۱۰ سے زائد ایسے پاکباز وجود ہیں جنہوں نے اس راہ پر چل کر شہادت کا جام نوش کیا۔آسمان احمدیت کے ستارے، یہ وہ خوش قسمت زندہ لوگ ہیں جنہوں نے احمدیت کی صداقت پر اپنے مقدس خون سے مہریں ثبت کیں اور حیات سرمدی کے وارث قرار پائے۔شہادت کا مرتبہ پانے والوں کے ساتھ ساتھ اسیران راہ مولیٰ بھی اسی مقدس راہ پر گامزن ہیں۔ان قیدیوں کی استقامت بھی ایک کرامت ہے۔ایک عظیم نشان ہے اور تابندہ