احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

by Other Authors

Page 53 of 64

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 53

53 ”اے عبد اللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔“ (روحانی خزائن مطبوعه لندن ۱۹۸۴ جلد ۲۰، تذکرۃ الشہادتین صفحه ۶۰) حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید رضی اللہ عنہ علمی فضلیت اور تقوی کی وجہ سے سر زمین کابل کے پیشوا تھے ہزار ہا لوگ آپ کے معتقد تھے، آپ ریاست کے بازو تھے اور علمائے کا بل میں آفتاب کی طرح تھے۔جب آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو حق سمجھ کر قبول کیا اور افغانستان واپس گئے تو آپ کو اس جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔چار ماہ قید با مشقت کی صعوبتیں برداشت کیں۔جیل میں ایک من 24 سیروزنی زنجیر میں آپ کو باندھا گیا۔پاؤں میں آٹھ سیروزنی بیڑی ڈالی گئی۔آپ لاکھوں کی جاگیر کے مالک اور ناز و نعم میں پہلے ہوئے تھے۔ان سب مصائب کو بڑی استقامت سے برداشت کیا۔امیر نے آپ کو بار بار احمدیت چھوڑنے کی ترغیب دلائی، باعزت رہائی اور انعام واکرام کا وعدہ کیا لیکن کوئی لالچ اور کوئی وعدہ اس کو ہ استقامت کو ذرا بھی جنبش نہ دے سکا۔ہر بار آپ کا جواب یہی ہوتا کہ: ” مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں ایمان پر دنیا کو مقدم رکھ لوں۔اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس کو میں نے خوب شناخت کر لیا اور ہر ایک طرح سے تسلی کر لی، اپنی موت کے خوف سے اس کا انکار کر دوں۔یہ انکار تو مجھ سے نہیں ہوگا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق پالیا۔اس لئے چند روزہ زندگی کے لئے مجھ سے یہ بے ایمانی نہیں ہوگی کہ میں اُس ثابت شدہ حق کو چھوڑ دوں۔میں جان چھوڑنے کے