احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

by Other Authors

Page 17 of 64

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 17

17 پہلے بولتا تھا اور اب اس کی صفت تکلم پر مہر لگ جائے۔میں عنقریب دہریہ ہونے والا تھا۔پیچھے سے ایک نرم ہاتھ نے میرے کندھے کو پکڑا اور کہا: کیوں محمد الیاس کیا بات ہے، کیوں پریشان ہے، میں نے کہا کہ خدا کی حقیقت معلوم ہوگئی ، وہ ایک فلسفہ ہے۔حقیقت میں نہیں ہے۔کیونکہ جس سے پوچھتا ہوں وہ یہی کہتا ہے کہ خدا پہلے بولا کرتا تھا، اب نہیں بولتا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور یہ شخص حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تھے۔اور کہا آؤ میں تمہیں بتلاتا ہوں، وہ خدا اب بھی بولتا ہے۔شرط یہ ہے کہ تم میرے ہاتھ پر بیعت کرو کیونکہ میں خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی ہوں وہ خدا تم پر بھی نازل ہو جائے گا۔اگر چاہے تو تم سے بھی کلام کرے گا۔اب عبد العلی اخوند زادہ صاحب، میں خدا کی ذات کی قسم کھاتا ہوں ، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا خدا مجھ سے بھی کلام کرتا ہے۔میں آپ سے پوچھتا ہوں کوئی ہے جو دعویٰ سے کہے کہ خدا اس سے بولتا ہے؟ تمام مجمع پر سناٹا چھا گیا اور کچھ دیر خاموشی رہی اور کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو مولوی صاحب نے فرمایا: میں ایسے مسلک اور ایسے فرسودہ اسلام کو جوصرف رسوم و بدعات کا اسلام رہ گیا ہے کیا کروں؟ جس میں خدا کلام نہیں کرتا اور کیوں نہ مرزا غلام احمد قا دیانی کے اسلام کو قبول کروں جو حقیقی اسلام ہے جس سے خدا ملتا ہے اور پیار اور محبت کے کلام سے نوازتا ہے۔66 (حیات الیاس۔مصنفہ عبد السلام خان ص۱۱۸)