دُختِ کرام

by Other Authors

Page 459 of 497

دُختِ کرام — Page 459

۴۴۷ گلا دیا۔بچپن میں ایک دفعہ اُن کی فوکس ویگن میں اُن کے ساتھ لاہور گیا تھا۔انہوں نے پچھلی سیٹ پر اپنے ساتھ مجھے بٹھا لیا اور اپنا پرس میری جھولی میں رکھ دیا تھا۔راستہ میں ایک جگہ کا رکھوائی اور خادم سے فرمایا : "جاؤ مبشر کے لیے کوئی پھل لے کر آؤ " مجھے لاہور کے بارہ میں کچھ علم نہیں تھا۔آپ مجھے بتائی جاتی تھیں۔۔۔۔وہ بڈھا راوی ہے۔یہ نیا پل بنا ہے۔یہ مینار پاکستان ہے۔یہ دکھاتا۔قلعہ ہے اور یہ شاہی مسجد۔مجھے آج بھی اپنے بارہ میں۔دنیا کے بارہ میں زندگی کے بارہ میں کچھ علم نہیں ہے۔میں اُن کے قریب رہ کہ یہ باتیں جان سکتا تھا اور اس قربت سے وہ نور کشید کر سکتا تھا جو مجھے فلاح کا راستہ مگر اب یہ سب کچھ سوچنا اور اس سوچنے پر نادم ہونا لا حاصل ہے۔وہ تو جا چکیں۔اب کبھی واپس نہ آئیں گی۔اب کبھی اُن کی کوئی نصیحت، کوئی جھڑ کی سننے کو نہ ملے گی۔اب ہمسایوں کے گھر سے کبھی یہ آواز نہیں آئے گی کہ بیگم صاحبہ کا فون آیا ہے ، کبھی کوئی خادم یہ پیغام لیکر نہیں آئے گا کہ اسلم صاحب کو بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔ناراض ہو رہی ہیں۔کبھی حضرت بیگم صاحبہ والد صاحب کو یہ نہیں کہیں گی کہ " و" اسلم کہاں چلے جاتے ہو۔تمہیں پتہ ہے میری طبیعت خراب ہے اخبار پڑھ کر سناؤ میری دوائی لا دو۔نرس کو بلا دو۔عائشہ کہاں ہے ؟ اسے کہنا کل ضرور آتے عائشہ ! تمہاری بہو کا کیا نام ہے کہ اچانک ایک آواز نے چونکا دیا اور مجھ سنبھال لیا۔۔دعا ہورہی ، دعاکریں۔