دُختِ کرام

by Other Authors

Page 458 of 497

دُختِ کرام — Page 458

لائی تھی وہ بوجھل دلوں اور تھکے قدموں کے ساتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔مگر میں ہمیشہ کی طرح وہیں کا وہیں ہوں کہیں بھی نہیں گیا۔زمین نے میرے پاؤں جکڑ لیے ہیں اور میری سوچ۔میری فکر اُس ایک لمحہ نے محبوس کرلی ہے جو میرے ہاتھ سے چھوٹ کر حد افق سے پار نکل چکا ہے اتنے لوگوں کو دیکھ کر اور اتنے لوگوں کی اتنی عقیدت اور محبت کو دیکھ کر مجھے مزید دکھ ہوا اور ندامت ہوئی کہ میں اتنے قریب ہو کر بھی اُن سے اتنی دُور رہا۔مجھے سمجھ نہیں آلہ ہی کہ اب میں کی کروں۔نماز جنازہ کے دوران اور تدفین کے وقت میں نے بہت دُعا کی ہے اور بہت رویا ہوں۔بہت پچھتایا ہوں۔یہ سارا وقت میں بچپن کے دریچوں سے اُن کے شفیق اور حسین چہرے کی زیارت کرتا رہا اُن کے چہرے کے نور کو اپنے دل پر محسوس کرتا رہا اور اُن کی باتیں یاد کرتا رہا۔اُن کا شفیق و شیریں لہجہ اور نرم و نازک خدو خال یاد آئے تو مجھے اس نور کو یوں مٹی میں دفنا دیا اچھا نہیں لگا۔مگر پھر سمجھ آئی کر نہیں یہ بھی ضروری ہے۔نور کو کسی ایک دنیا تک محدود کئے رکھنا بھی تو - اچھا نہیں ہے اندر بھی زمیں کے روشنی ہو مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے اپنی سوچوں کے دوران ندامت کا ایک ذکر اور کھلا اور ایک اور یاد کچھ اس طرح مسکراتی ہوئی میرے سامنے آکھڑی ہوئی کہ مجھے