دُختِ کرام

by Other Authors

Page 412 of 497

دُختِ کرام — Page 412

۴۰۰ نے پھر کہا کہ پھر آپ ان کو اپنے گھر کو تئیں۔" میں اچھا کہ کے بعد میں یہ بات بھول گئی، لیکن خدا تعالٰی کا پیار دیکھیں کہ وہ اپنے بندوں سے کتنا پیار کرتا ہے اس کو اس معصوم بچی کی یہ بات کتنی پیاری لگی کہ وہ نہیں بھولا۔اس نے اپنی رحمت سے اس بیٹی اور اس سے بڑی بیٹی کی آمین کرنے کی ہمیں توفیق بخشی اور اس معصوم خواہش کو کہ یہ لوگ ہم جیسے غریبوں کے گھروں میں بھی آجاتے ہیں اپنے کرم سے کیسے پورا فرمایا۔کہ ہمارے غریب گھر میں حضرت سیدہ نواب مبار کهہ بیگم صاحبہ سے لے کر خاندان کے تمام پیارے پیارے وجود آئے اور ہمارا گھر منور ہو گیا۔حضرت سیدہ بڑے بیگم صاحبہ تقریباً ایک گھنٹہ ہمارے گھر میں رہیں۔اسی طرح حضرت چھوٹے بیگم صاحبہ کو بھی کیا ہوا تھا۔اتفاق سے اس دن آپ کی کسی پرانی خادمہ کے بیٹے کی شادی تھی وہاں بھی آپ نے لازما جانا تھا۔ہم ابھی انتظامات میں مصروف تھے۔گھر الٹ پلٹ تھا یا ہیر سے طاہر احمد بھاگا ہوا آیا۔اتی اقی حضرت بیگم صاحبہ آگئی ہیں میں جلدی میں جو دوپٹہ ملا سر پر رکھ کر کمرہ سے باہر نکلی تو آپ برآمدہ میں تشریف لاچکی تھیں اور آپ کے ساتھ آپ کی بڑی صاحبزادی محترمہ آیا طیبہ بیگم صاحبہ بھی تھیں۔آپ نے مجھے گلے لگایا اور پھر بچیوں کے لیے تحفہ دے کر مبارک باد دی۔اور فرمایا کہ میں پہلے اس لیے آگئی ہوں کہ شام کو میں نے ایک شادی میں ضرور جانا تھا میں نے تمہاری خوشی میں بھی شامل ہونا تھا۔اب تم شکوہ نہ کرنا کہ میں نہیں آئی۔یہ آپ کے اعلی اخلاق اور کریانہ اطوار کا ایک بہترین نمونہ تھا کہ آپ نے ہماری خوشی کو پورا فرمایا۔درینہ