دُختِ کرام — Page 368
۳۵۶ 191 مایہ کوٹلہ کے منجھلے صاحبزادے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب سے بے جون ۱۹۱۵ نه مطابق ۲۲ رجب المرجب ۱۳۳۳ ہجری بروز دوشنبیہ ہوا۔۔۔اور رخصتی ۲۶ فروری شاشته مطابق ۲۹ ؍ ربیع الثانی ۱۳۳۹ ہجری کو ہوئی۔----- حضرت حجة اللہ نواب محمد علی خان صاحب کو بھی حضرت مسیح موعواد السلام کی دامادی کا شرف حاصل تھا۔اور حضور کی بڑی صاحبزادی حضرت سیدہ خواب مبارکہ بیگم صاحبہ آپ کے حبالہ عقد میں تھیں۔- حضرت سیده امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور حضرت نواب محمد عبد الشاخان صاحب کو راقم الحروف نے مثالی جوڑا پا یا۔باہمی محبت حسن سلوک اور فدائیت کے ایسے نظارے دیکھے کہ روح وجد میں آگئی ایک دوسرے کا اس قدر خیال اور اتنا احترام که باید و شاید ۱۸ ستمبر 11 کو حضرت نواب محمد عبدالله خان صاحب مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ کے تحت ایک لمبی بیماری کے بعد ۶۶ سال کی عمر میں وفات پاگئے اور اس طرح کم وبیش ۴۵ ساله یه دور رفاقت عارضی طور پر منقطع ہو کر رہ گیا۔حضرت نواب صاحب مرحوم نے اس جگر گوشتہ نصرت جہاں کی شالی قدر کی اور ان کے راحت و آرام کا ہر طرح خیال رکھا اور ان کی نظر میں حضرت سیدہ کا ایک نماص عزت و تکریم کا مقام تھا جسے آپ نے زندگی بھر قائم رکھا اور اسے باعث فخر سمجھا۔۔۔۔۔۔حضرت نواب صاحب ۱۳ - ۱۴ سال صاحب فراش رہے اس دوران حضرت بیگم صاحبہ نے جس طرح شبانہ روز خدمت کی اس کی مثال ملنا محال ہے۔۔۔