دُختِ کرام

by Other Authors

Page 369 of 497

دُختِ کرام — Page 369

راقم الحروف کی والدہ محترمہ غفور النساء صاحبہ کو حضرت اماں جان نے حضرت سیدہ مرحومہ کے بڑے صاحبزادے مکرم میاں عباس احمد خان صاحب کی رضاعت کے لیے ۹۲ کہ میں سنور ریاست پٹیالہ سے بلوایا۔اس وقت سے حضرت سیدہ مرحومہ کے ساتھ قرب کا تعلق ہمارے خاندان کو رہا۔میری عمر اس وقت (جنوری ته ) ۶۷ سال سے زائد ہے اور نصف صدی سے زائد عرصہ تک میں نے حضرت سیدہ کے مناقب عالیہ اور اوصاف حمیدہ کو بچشم خود دیکھا ہے اور میں علی وجہ البصیرت کہ سکتا ہوں کہ حضرت سیدہ مرحومہ مکارم اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھیں اور ان کی ہر حرکت و سکون اور ہر لمحہ دختِ کرام ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت تھا۔ایک دفعہ قادیان میں مجھے فرمایا کہ خواب میں تمہیں پریشان دیکھا ہے کیا بھی کی اور عباس احمد کو امداد کے لیے بھی کہا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس بابرکت و مقدس ہستی کا مجھ عاجز کو خواب میں دیکھنا اس امر پر دال ہے کہ ان کی شفقت و رافت بیکراں تھی اور ان کے دل میں ہر ایک کے لیے درد تھا وہ ایک حساس دل کی مالک تھیں۔بے تکلفانہ گفتگو کے دوران ایک دفعہ میں نے عرض کیا آپ نے عرصہ ہوا مجھے خواب میں پریشان دیکھا تھا جس کا مجھ پر یہ اثر ہے کہ کوئی پریشانی نہ بھی ہو تو یونی پریشان ہو جاتا ہوں تاکہ آپ کا خواب پورا ہوتا رہے۔مزید جرات کر کے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ نے خواب دیکھا تھا اب آپ ہی دُعا بھی کریں کہ یہ سلسلہ ختم ہو۔لطف اندوز ہوتے ہوئے فرمایا : دعا تو میرا معمول ہے گھبرانا نہیں چاہیئے