دُختِ کرام — Page 310
ظاہر کی FAIN WOULD I COME BUT THati FEAR TO FALL اس پر ملکہ نے جواب دیا۔FALLS THEe Donot Come atall۔گو انگریزی ادب کا مطالعہ کافی تھا، لیکن بولنے میں روانی نہیں تھی۔اور کام چلا لیتی تھیں۔سفر یورپ میں بھی میں نے دیکھا کہ سمجھ لیتی تھیں لیکن بولتے ہوئے جھجک تھی۔ابا کا دستور تھا کہ لمبی چھٹیوں میں کہیں جانا ہوتا تو ضرور کسی بزرگ عالم دین کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے تاکہ بچوں کی دینی تعلیم کا خرچ نہ ہو ایک بار سندھ جاتے ہوئے مکرم مولوی ظہور حسین صاحب ہمارے ساتھ گئے۔ابھی بھی باقاعدہ ان سے پڑھا کرتی تھیں۔یہ تو مجھے یاد نہیں کہ تفسیر پڑھتی تھیں یا لفظی ترجمہ لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ ہم سے بہت زیادہ وقت وہ لیتی تھیں۔میری شادی کے بعد جب گھر یلو فکروں سے آزاد ہوئیں تو اکثر وقت مطالعہ میں گذرنے لگا۔میں جب آتی تو دیکھتی کہ صبح کے وقت کئی گھنٹے تفسیر کبیر کا بڑے غور سے مطالعہ کرتیں۔میں حیران ہوتی تھی کہ امی اتنی دماغی مشقت اس عمر میں کیسے برداشت کر لیتی ہیں۔جب کوئی مشکل آتی تو کسی عزیز کو فوراً فون کر کے بھتیں۔شعر بھی کہہ نہیں لیکن اس کا اظہار پسند نہ کرتیں۔طبیعت میں بے انتہا حجاب تھا۔جس کی ایک وجہ شاید بچپن میں باپ سے محرومی بھی تھی۔میں امی سے اکثر بے تکلفی سے بات کر لیا کرتی تھی ایک دن میں نے باتوں