دُختِ کرام — Page 309
۲۹۷ الی کی شخصیت میں بے انتہا جاذبیت تھی۔جو ایک دفعہ مل جاتا گرویدہ ہو جاتا۔انکساری کے ساتھ ساتھ ایک قدرتی رُعب تھا۔شخص کے ساتھ اس کے حالات کے مطابق گفتگو کا فن آتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسروں بچوں کی طرح کمال کا حافظہ تھا۔اس آخری عمر میں بھی جو احمدی مستورات آتیں ان کو فوراً پہچان کر ان کے عزیز و اقارب کے متعلق دریافت فرمائیں اگر کسی نے اپنی مشکلات کا پچھلی ملاقات میں ذکر کیا ہوتا تو اس کے متعلق پوچھتیں میرے پاس اکثر جو بہنیں تعزیت کے لیے آئیں انہوں نے ان کی اس خصوصیت کا ذکر کیا۔بے حد زمین و نسیم تھیں انسان کو دیکھ کر اس کی شناخت کرلیتیں علم دوست تھیں حصول علم کا اتنا شوق تھا کہ شادی کے بعد میٹرک۔ادیب عالم اور انگریزی میں ایف اے کیا۔اُردو ادب کے علاوہ انگریزی ادب بھی کافی پڑھا ہوا تھا۔میں حالانکہ کانونٹ میں پڑھی تھی لیکن ذاتی مطالعہ کی راہنمائی ساری امی نے کی۔منجھلے ماموں جان (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) سے انگریزی پڑھی۔اکثر باتیں کہ منجھلے بھائی کے پڑھانے کا طریق بہت اچھا تھا۔جو پڑھاتے ذہن نشین کرا دیتے اکثر مشکل الفاظ شامیں دے کر سمجھاتے ایک دفعہ ایک انگریزی لفظ ۴۸۱۷ آیا تو منجھلے ماموں جان نے ملکہ الزبتھ اول کا ایک مشہور واقعہ سنا کر اس لفظ کا استعمال سکھا یا ملکہ کے منظور نظر بدلتے رہتے تھے ایک بار اس نے اپنے کسی CARDINAL کو بلا بھیجا تو اس نے ان الفاظ میں آنے سے معذوری