دُختِ کرام

by Other Authors

Page 311 of 497

دُختِ کرام — Page 311

۲۹۹ کی رو میں کہہ دیا۔کہ اتنی آپ میں بہت سی صلاحیتیں تھیں لیکن ان کو اُبھرنے کا موقع نہیں طا۔شاید یہ آپ کی بچپن کی محرومیاں میں جنھوں نے آپ کو دبائے رکھا۔میں یہ بات کہہ کہ آج تک شرمندہ ہوں۔امی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔اتنا ضبط ہونے کے باوجود ہونٹ کپکپاتے اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔صرف سر ا کر خاموش ہو گئیں۔قرآن کریم میں قیموں کو ابھارنے کا حکم یونسی نہیں۔اماں جان نے ساری زندگی لاڈ پیار کیا۔اٹھارا باپ کی کمی پوری کرنے کی کوشش کی لیکن امی کو آخری سانس ایک اس کا احساس رہا۔آپ کی خداداد ذہانت کا اعتراف اپنے نہیں غیر بھی کرتے تھے آپا شاما کی ایک انگریز دوست ایک دفعہ ربوہ آئیں۔امی سے مل کر بہت متاثر ہوئیں۔ہمیشہ خطوں میں ان کا ذکر کر نہیں۔امی کی وفات کے بعد لکھا کہ میں ان سے مل کر اس قدر متاثر ہوئی تھی کہ ایک چھوٹے سے قصبہ میں رہنے والی بزرگ خاتون دنیا کے حالات سے کسقدر ہیں۔ENLIGHTENED آپ کی عمر تیرہ سال کی تھی جب آپ کی شادی ہوئی اور وہ بھی بالکل علیحدہ ماحول میں۔امی بتاتیں تھیں کہ ہمارے گھر کا ماحول بالکل سادہ تھا۔ایک دم جب میں نوابی طرز زندگی میں داخل ہوئی تو سٹپٹا گئی لیکن میں نے کبھی اپنی کمزوری ظاہر نہیں ہونے دی۔فطرتی ذہانت نے اس مرحلہ سے بھی ان کو وقار سے گزار دیا۔اپنی شروع زندگی کا واقعہ اکثر سناتی تھیں