دُختِ کرام — Page 308
۲۹۶ دیکھ بھال کے لیے جانے کا پروگرام بنایا۔ہم بچے تو چھٹیاں گزار کر واپس آگئے لیکن امی ابا بعد میں بھی اس جنگل میں رہتے رہے۔اس وقت میں ۱۴ سال کی تھی ان دنوں کے خطہ ابھی تک میرے پاس محفوظ ہیں۔اتنی کی گھیرا ہٹ کا اندازہ ان سے ہوتا ہے ہزاروں دسادس ان کو پریشان کرتے لیکن با کی خاطر برداشت کرتیں اور کبھی ان پر اپنی تکلیف کا اظہار نہ ہونے دیتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت اتنی کی عمر چار سال تھی۔حضرت اماں جان کو چھوٹی ہونے کی وجہ سے آپ سے بہت محبت تھی۔۔۔۔۔۔اماں جان کو آپ کی محرومی کا اس شدت سے احساس تھا کہ آپ نے بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر آپ کے سامنے نہ ہونے دیا۔۔۔۔۔۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امی کا ذرمین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں ذہن میں محفوظ نہ رکھ سکا جس کا آپ کو از حد قلق تھا۔جب میرے میاں کی وفات ہوئی تو میری سب سے چھوٹی بیٹی سحر بھی چار سال کی تھی اور سعدیہ - سمیرا نو اور سات سال کی۔چند دنوں کے بعد امی نے مجھے بڑے دکھ سے کہا۔کہے بی ان بچوں پر وہ ظلم نہ کرنا جو نا دانستگی میں اماں جان نے مجھ پر کیا ؟ ان الفاظ میں اتنا دکھ اور محرومی تھی کہ میں کانپ گئی میں نے بارہا امی کی نصیحت پر عمل کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار میری آواز روندھ جاتی اور الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے اس وقت مجھے حضرت اماں جان کی مجبوری اور بے سہی سمجھ میں آگئی لیکن امی کو کبھی نہ بنا سکی کہ حضرت اماں جان بے قصور تھیں۔