دُختِ کرام — Page 227
۲۱۵ وقف کیا ہے اور آج اس کی افتتاحی تقریب بھی تھی۔حضرت سیدہ بیگم صاحبہ سے درخواست کی گئی کہ وہ ممبرات سے خطاب فرمائیں اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے کچھ واقعات سنائیں جس پر آپ نے فرمایا کہ میں اس وقت صرف چار سال کی تھی مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔لیکن آپ نے اپنے ہاتھ سے یہ پیغام لکھ کر دیا جوخاکسارہ نے پڑھ کر سنایا :- السلام علیکم ! میں اپنی سب بہنوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنھوں نے میری خاطر بار بار تکلیف اُٹھا کر مجھے بلایا۔جماعت کراچی نے جس محبت اور اخلاص کا اظہار کیا ہے میں اس کے لیے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور کچھ نہیں کہتی البتہ حسب توفیق سب بہنوں اور بھائیوں کے لیے دُعا کرتی ہوں اور بفضل تعالٰی دُعا کا موقعہ بھی ملتا رہتا ہے۔میں بھی اپنی بہنوں سے یہ درخواست کروں گی کہ وہ بھی میرے لیے یہ خاص دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس مرتبہ سے نوازا ہے میں اس کی اہل بھی ثابت ہوں میں اپنے کو اس قابل نہیں پاتی کہ میں حضرت مسیح موعود سے وابستہ ہوں۔مگر یہ شرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے بے مانگے مجھے بخشا ہے خدا کرے میں خود کو اس قابل بھی بنا سکوں۔میں کمر پر اپنی بہنوں کا