دُختِ کرام — Page 196
۱۸۴ نہیں آیا کہ یہ الوداعی معانقہ ہے۔میرا دل اس طرف گیا کہ شاید جماعت پر کوئی اور ابتلا آنے والا ہے ایک غم کی خبر ہوگی اس سے فکر پیدا ہوگئی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو حفاظت میں رکھے گا۔چنانچہ ایک ملک کے امیر صاحب کو میں نے اسی تعبیر کے ساتھ خط میں یہ خواب لکھی کہ اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ کے ملک میں یہ واقعہ ہونیوالا ہے، لیکن اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالٰی اپنے فضل کے ساتھ حفاظت فرمائے گا، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ واقعہ یہ اسی خواہش کا جواب تھا جو میرے دل میں بھی بہت شدید تھی اور حضرت پھوپھی جان کے دل میں بھی تھی کہ اللہ تعالٰی ہمیں ان کے وصال سے پہلے ملا دے اور معانقہ ہو جائے اور یہ معانقہ اتنا حقیقی تھا کہ جیسے کسی جاگے ہوتے انسان کومل رہا ہو اور اس کا اتنا گہرا اثر اور لذت تھی کہ خواب کے اندر یہ احساس نہ ہوا کہ خواب تھی اور گزرگئی بلکہ یوں معلوم ہوا جیسے حقیقی چیز کوئی واقعہ کے بعد پیچھے رہ جاتی ؟ ہے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں ہماری ملاقات کا انتظام فرما دیا اور یہ الوداعی معانقہ تھا جو مجھے دکھایا گیا۔حضرت پھوپھی جان کی شادی بہت بچپن میں یعنی گیارہ سال کی عمر میں حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب جو نواب مالیر کوٹلہ یعنی مالیر کوٹلہ کے نواب خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت مسیح موعود کے صحابی تھے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے بڑے بیٹے تھے کے ساتھ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کی خلافت کے ابتدائی دور میں ہوئی آپ کا نکاح گیارہ