دُختِ کرام

by Other Authors

Page 149 of 497

دُختِ کرام — Page 149

۱۳۷ انی سے ملنے آرہے تھے۔امی سر سے پاؤں تک برقعہ میں ملبوس آنکھوں پردھوپ کی عینک لگاتے باہر آئیں کچھ ہی دیر بعد جیسی اندر آیا کہ وہ کہ رہے ہیں بیٹی بھی باہر آتے میں بھی برقعہ پہن کر باہر آئی اور پھر ہم سب کی چاروں طرف سے بے شمار تصاویر کھینچی گئیں۔آپا قدسیہ اور بھائی موجی اپنے ہوٹل میں تھے اس لیے ان کی کی بہت محسوس ہوئی تصاویر کھنچوا کر ہم اندر آئے تو ایک عورت امتی کا انٹرویو لینے کے لیے بیٹھی ہوتی تھی وہ صرف جرمن زبان جانتی تھی اس لیے سارا انٹرویو لطیف صاحب کی وساطت سے ہوا۔انٹرویو یاں کی عورت کا اسلام میں مقام پر ہوا۔امی نے اس کو بتایا کہ عورت تو اپنے گھر کی ملکہ ہوتی ہے۔اسلام نے ہی عورت کو اس کا صحیح مقام دلایا ہے۔ہمارے ہاں جنت ماؤں کے قدموں تلے کبھی جاتی ہے وہ رپورٹر بہت شوق سے سب سنتی رہی اور سب کچھ لکھتی رہی۔دوسرے دن تمام اخبارات میں ہماری بڑی بڑی تصاویر اوراقی کا انٹرویو شائع ہوا۔کئی سٹورز میں ہمیں دیکھ کر SALES GIRLS اخبار کھول کھول کر ہماری طرف اشارہ کرکے ہماری تصاویر دکھاتی تھیں۔اور یوں جرمنی میں بھی امی کا آنا تربیت کا ذریعہ بنا۔ہیمبرگ میں ہم نے کافی مقامات کی سیر کی وہاں کا چڑیا گر مبت مشہور ہے وہاں پر جانوروں کو بغیر بند کئے پہاڑیوں اور تالابوں کے ذریعے ہی مقید کیا ہوا ہے رات کو ہم نے فواروں کا ناچ دکھا اس جگہ کا نام PDANTONS ON BLOMEUS ہے مختلف رنگوں