دُعائے مستجاب — Page 87
دعائے مستجاب۔دینی و دنیوی ترقیات کے حصول کا ایک یقینی اور مجرب طریق بتاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: پہلی چیز جو ہمیں مدنظر رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم ایسی مشترک چیز حاصل کریں جو سب کے ساتھ شامل ہوتی ہے اور جس کا ہر موقعہ اور ہر حال میں ہونا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۷) یعنی اے ہمارے رسول تو ان لوگوں سے کہدے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے۔اگر تمہاری طرف سے دُعا اور استغفار ہی نہ ہو۔اس میں بتایا گیا ہے کہ جو قو میں میرے ذریعہ دینی اور دنیوی کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہیں ان کیلئے ضروری ہے کہ مجھے پکار میں اور مجھ سے دعا کریں ورنہ اگر تم دعا سے کام نہ لو گے تو تمہاری خدا تعالیٰ کو پرواہ ہی کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ایک دفعہ یہی الہام ہوا تھا جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ مسلمان دعا کو بھول گئے ہیں۔۔۔جولوگ دعاؤں پر بھروسہ نہیں رکھتے ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔پس وہ قومیں جو کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہیں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ دعاؤں پر زور دیں وہ لوگ جو کہا کرتے ہیں کہ مغربی اقوام جن میں سے اکثر خدا کو بھی نہیں مانتیں وہ کیوں ترقی کر رہی ہیں۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ اپنوں اور غیروں کی ایک حالت نہیں ہوا کرتی ย 87