دُعائے مستجاب — Page 54
دعائے مستجاب۔حیثیت رکھتے تھے اور تمام علاقہ میں مشہور تھے۔علاوہ زہد وانقاء کے انہیں علم تو جہ میں اس قدر ملکہ حاصل تھا کہ جب وہ نماز پڑھتے تو ان کے دائیں بائیں بہت سے مریض صف باندھ کر بیٹھ جاتے نماز کے بعد وہ سلام پھیرنے کے ساتھ ہی دائیں بائیں پھونک بھی مار دیتے جس سے بہت سے مریض اچھے ہو جاتے۔صوفی احمد جان صاحب نے ان کی بارہ سال شاگردی کی اور وہ ان سے چکی پسواتے رہے۔راستہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اتنے سال رتر چھتر والوں کی خدمت کی ہے اور اس کے بعد مجھے وہاں سے اس قدر طاقت حاصل ہوئی ہے کہ دیکھئے میرے پیچھے جو شخص آ رہا ہے اگر میں اس پر توجہ کروں تو وہ ابھی گر جائے اور تڑپنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سنتے ہی کھڑے ہو گئے۔۔۔اور فرمایا۔۔۔صوفی صاحب اگر وہ گر جائے تو اس سے آپ کو کیا فائد ہوگا۔وہ چونکہ واقع میں اہل اللہ میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دُور بین نگاہ دی ہوئی تھی اس لئے یہ بات سنتے ہی ان پر محویت کا عالم طاری ہو گیا اور کہنے لگے۔میں آج سے اس عمل سے تو بہ کرتا ہوں۔مجھے علم ہو گیا ہے کہ یہ دنیوی بات ہے دینی بات نہیں ہے۔۔۔میں نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں دُور بین نگاہ دی تھی اس کا ہمارے پاس ایک حیرت انگیز ثبوت ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی براہین احمدیہ ہی لکھی تھی کہ وہ سمجھ گئے کہ یہ شخص مسیح 54