دُعائے مستجاب — Page 53
دعائے مستجاب۔ہپناٹزم۔۔۔رکھا اور اس کیلئے انہوں نے بڑی مشقیں کیں مگر وہ سب دنیوی چیزیں ہیں اور حقارت کے قابل ہیں لیکن جس وقت یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے دین کے رنگ میں رنگین ہو جاتی ہیں تو انہیں ایمان اور دُعا کہتے ہیں اور ان سے کار ہائے نمایاں انجام دیئے جاسکتے ہیں۔“ علم توجہ اور دُعا کا مقابلہ کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: در علم تو جہ کیا ہے؟ وہ محض چند کھیلوں کا نام ہے لیکن دعا وہ ہتھیار ہے جو زمین و آسمان کو بدل دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعوی نہیں کیا تھا۔صرف براہین احمد یہ لکھی تھی۔اس کی صوفیاء اور علماء میں بہت شہرت ہوئی۔پیر منظور محمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب کے والد صوفی احمد جان صاحب اس زمانہ کے نہایت ہی خدا رسیدہ بزرگوں میں سے تھے۔جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار پڑھا تو آپ سے خط و کتابت شروع کردی اور خواہش ظاہر کی کہ اگر کبھی لدھیانہ تشریف لائیں تو مجھے پہلے سے اطلاع دیں۔اتفاقاً انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لدھیانہ جانے کا موقع ملا۔صوفی احمد جان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی۔دعوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس تشریف لا رہے تھے کہ صوفی احمد جان صاحب بھی ساتھ چل پڑے۔وہ رتر چھتر والوں کے مُرید تھے اور ماضی قریب میں رتر چھتر والے ہندوستان کے صوفیاء میں بہت بڑی 53