دُعائے مستجاب — Page 29
دعائے مستجاب۔ہے جب یہ آواز انسان کے دل سے نکلتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الا ان نصر اللہ قریب یعنی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد قریب آگئی ہے۔یہ صحیح ہے کہ انسانی نسل بعض اوقات ان سامانوں سے محروم ہو جاتی ہے جو بظاہر حفاظت کیلئے ضروری ہے مگر اس وقت ان کیلئے دُعا کا ہتھیار ہے۔انبیاء کی جماعتوں کے قیام میں اللہ تعالیٰ کو چونکہ قدرت نمائی مقصود ہوتی ہے اور وہ چونکہ بتانا چاہتا ہے کہ میں نے ہی انہیں قائم کیا ہے اور میں ہی ان کی حفاظت کروں گا اس لئے وہ ان کو ظاہری سامانوں سے محروم کر دیتا ہے تا وہ ایک ہی ہتھیار کو سامنے رکھیں یعنی خدا تعالیٰ کی امداد کا ہتھیار۔ہماری جماعت بھی اللہ تعالیٰ کے نبی اور مامور کے ذریعہ قائم ہوئی ہے اس لئے سنت اللہ کے مطابق خاص طور پر کمزور ہے۔بے شک ہندوستان میں باقی قو میں بھی ظاہری ہتھیاروں سے محروم ہیں۔ہندو ،سکھ دوسرے مسلمان کسی کو بھی اجازت نہیں لیکن پھر بھی ان کو ایک ہتھیار حاصل ہے یعنی جتھہ کا ہتھیار مگر ہم اس سے بھی محروم ہیں۔ان کے بڑے بڑے جتے ہیں اور حکومت کو ان کو خوش رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسری حکومتیں بھی ان کو خوش رکھنا چاہتی ہیں مگر ہمارا کوئی جتھہ بھی نہیں اور اس لئے ہمیں خوش رکھنے کی کسی کو بھی ضرورت نہیں۔کہتے ہیں کسی بیل کے سینگ پر کوئی مچھر بیٹھ گیا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد مودی کہنے لگا میاں بیل میں تمہارے سینگ پر بیٹھا ہوں، اگر تمہیں تکلیف 29