دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 30 of 173

دُعائے مستجاب — Page 30

دعائے مستجاب۔محسوس ہوتی ہو تو میں اُڑ جاؤں۔بیل نے کہا مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں لگا کہ تم بیٹھے کب ہو۔یہی حالت ہماری ہے۔ہمارا کھڑا ہونا اور بیٹھنا کسی کو محسوس بھی نہیں ہوتا۔اس لئے کہ ہمارا جتھہ کوئی نہیں۔دنیا جس چیز کا ادب و احترام کرتی ہے وہ ہمارے پاس نہیں۔دنیا میں یا تو طاقت وقوت کا احترام کیا جاتا ہے اور یا پھر جتھوں کا۔جتھے والی قو میں بھی جب کھڑی ہو جائیں تو حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر دیتی ہیں مگر ہمارے پاس تو یہ بھی نہیں۔اس لئے ہمارا ہتھیار صرف دعاؤں کا ہی ہتھیار ہے اور ہمیں دعاؤں پر خاص زور دینا چاہئے۔ہمارا واحد ہتھیار ڈھا ہے اور جس شخص کے پاس ایک ہی ہتھیار ہو وہ اگر اسے بھی پھینک دے تو اس سے زیادہ بدنصیب اور کون ہوسکتا ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ خذوا حذرکم یعنی اپنے ہتھیار ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرو۔جن کے پاس تلوار میں اور بندوقیں ہیں ان کو تلوار میں اور بندوقیں اپنے پاس رکھنے کا حکم ہے۔لیکن جن کے پاس یہ نہیں ان کیلئے یہی حکم ہے کہ وہ ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ ہتھیار اسی صورت میں مفید ہوتا ہے جب اسے استعمال کیا جائے۔کسی شخص کے پاس اگر اچھی سے اچھی تلوار ہو لیکن وہ اسے دور پھینک دے اور دشمن حملہ کرے تو وہ تلوار اُسے کیا فائدہ دے سکتی ہے کسی کے پاس بہت اعلی بندوق ہو لیکن وہ غلافوں میں بند گھر میں پڑی ہو اور ڈاکو اسے جنگل میں گھیر لیں تو وہ بندوق اس کے کس کام کی۔اسی طرح کسی کے پاس تو ہیں اور ہوائی 30