دُعائے مستجاب — Page 28
دعائے مستجاب۔کوئی یہ سلوک نہیں کر سکتا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی دس میں پچاس کبوتروں کے پر کاٹ دے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو مچھلی پکڑی جائے اس کے کانٹے اڑا دیئے جائیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ جو سانپ پکڑا جائے اس کی کچلیاں توڑ دی جائیں مگر یہ ممکن نہیں کہ کسی ملک کے سارے کبوتروں کے پر کاٹے جاسکیں۔کسی ملک کے پانیوں میں رہنے والی سب مچھلیوں کے کانٹے اڑا دیئے جائیں اور کسی ملک کے سارے سانپوں کو ان کی زہر کی کچلیوں سے محروم کر دیا جائے مگر انسانوں کے متعلق یہ ممکن ہے اس لئے اس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے علیحدہ طاقت بھی عطا فرمائی ہے۔چنانچہ فرمایا۔جب ایسی حالت ہو اس وقت ایسے لوگوں کی توپ ، بندوق ، مشین گن اور ہوائی جہاز دُعا ہے۔دُعا ہی ایسے وقت میں اس کا ہتھیار بن جاتا ہے۔وہی اس کی حفاظت کا سامان بن جاتا ہے۔قرآن مجید نے فرمایا ہے:آمن يُجيبُ المُضطَرٌ إذا دعاه یعنی کون ہے جو مضطر اور بے بس کی دُعا کو سنتا ہے جس کی حفاظت کے سارے سامان اس سے چھین لئے جاتے ہیں اس کی آواز کو کون سنتا ہے؟ فرمایا: ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انبیاء اور ان کی جماعتیں دنیا کے ظلموں سے تنگ آجاتی ہیں اور گھبرا کر پکارتی ہیں کہ متی نصر اللہ یعنی ہمارے سامان جاتے رہے۔ہمارے ہتھیار چھین لئے گئے۔خدا تعالیٰ کی مدد ہماری نصرت کب کرے گی۔اب خدا تعالیٰ کہاں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا 28