دُعائے مستجاب — Page 166
دعائے مستجاب۔ضروریات کو بیان نہ کر سکتا تھا تو نے مجھ پر وہ انسان مقرر کئے جو میری فکر خود کرتے تھے۔پھر مجھے ترقی دی اور میرے ذوق کو وسیع کیا۔اے میری جان۔ہاں اے میری جان تو نے آدم کو میرا باپ بننے کا حکم دیا اور حوا کو میری ماں مقرر کیا اور اپنے غلاموں میں سے ایک غلام کو جو تیرے حضور عزت سے دیکھا جاتا تھا اس لئے مقرر کیا کہ وہ مجھ سے ناسمجھ اور نادان اور کم فہم انسان کیلئے تیرے دربار میں سفارش کرے اور تیرے رحم کو میرے لئے حاصل کرے۔میں گنہگار تھا تو نے ستاری سے کام لیا۔میں خطا کار تھا تو نے غفاری سے کام لیا۔ہر ایک تکلیف اور دُکھ میں میرا ساتھ دیا۔جب کبھی مجھے پر مصیبت پڑی تو نے میری مدد کی اور جب کبھی میں گمراہ ہونے لگا تو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔باوجود میری شرارتوں کے تو نے چشم پوشی کی اور باوجود میرے دُور جانے کے تو میرے قریب ہوا۔میں تیرے نام سے غافل تھا مگر تو نے مجھے یادرکھا۔ان موقعوں پر جہاں والدین اور عزیز و اقرباء اور دوست و غم گسار مدد سے قاصر ہوتے ہیں تو نے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھایا اور میری مدد کی۔میں غمگین ہوا تو تو نے مجھے خوش کیا۔میں افسردہ دل ہوا تو تو نے مجھے شگفتہ کیا۔میں رویا تو تو نے مجھے خوش کیا۔میں افسردہ دل ہوا تو تو نے مجھے شگفتہ کیا۔میں رویا تو تو نے مجھے ہنسایا۔کوئی ہوگا جو فراق میں تڑپتا ہو ، مجھے تو تو نے خود ہی چہرہ دکھایا۔تو نے مجھ سے وعدے کئے اور پورے کئے اور کبھی نہیں ہوا کہ تجھ سے اپنے اقراروں کو پورا کرنے میں 166