دُعائے مستجاب — Page 111
دعائے مستجاب۔فروخت کرنے والا اسکی خوبیاں بیان کرتا اور اسکے عیوب کو چھپاتا ہے اور لینے والا اسکی قیمت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے دونوں طرف سے قیمتوں کے اندازے ہوتے ہیں مگر اس غلام سے کوئی پوچھتا تک بھی نہیں۔اس کا منشاء وہاں جانے کا ہے بھی یا نہیں جہاں اُسے بھیجنے کی گفتگو ہورہی ہے۔اسی طرح نہ حملہ آور کو ہمارے ارادوں کی کچھ پرواہ ہے اور نہ دفاع میں ہمارا کچھ دخل ہے۔۔۔ایسے حالات میں ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل اور دل میں حس موجود ہے محسوس کرے گا کہ ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اسی درگاہ میں جاگریں جہاں غلام و آزاد اور چھوٹے بڑے کو مساوات حاصل ہے۔جو مظلوم کی دادرسی کرتا اور سب کی آواز کوسنتا ہے۔جس کا کوئی سہارا نہ ہو وہ اس کا سہارا ہوتا ہے اور جب کوئی بھی پکار کو سننے والا نہ ہو وہ سنتا ہے۔سوائے اس کے دروازہ کے۔۔۔۔احمدیت کیلئے کوئی چارہ کارنہیں کوئی آلہ ہمارے پاس حفاظت کا نہیں سوائے اس کے کہ اسی دروازے کو کھٹکھٹائیں اور اسی سے مدد مانگیں۔مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ آج اس در کو چھوڑ رہے ہیں۔جھوٹے آقاؤں نے ہمیں بیچ ڈالا اور جھوٹے مدعی ہماری ملکیت کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن وہ سچا آقا جو ہمیشہ ہماری عزت اور آبرو کا خیال رکھتا ہے اسے لوگوں نے بھلا دیا۔کاش لوگ اب بھی اس طرف متوجہ ہوں اور اس کی محبت کی چنگاریاں ان کے دلوں میں سلگنے لگیں۔وہ ہمیں خود ہی اپنی طرف کھینچ لے اور ہم بھولے ہوئے سبق 111