حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 81 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 81

مارشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔کے ذریعہ آپ کی رہنمائی کی اور بشارات سے آپ کو نوازا۔آپ با قاعدہ تہجد گزار تھے قرآن مجید سے آپ کو غایت درجہ محبت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔عربی اور اردو کے بلند پایہ ادیب تھے۔آپ کی یاد گار پانچ لڑکیاں اور دولڑ کے ہیں۔آپ کی وفات کا تار موصول ہونے پر حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب امیر مقامی قادیان نے خطبہ ثانیہ میں یہ افسوسناک اطلاع دیتے ہوئے رقت بھری آواز میں آپ کے مناقب جلیلہ پر مختصر روشنی ڈالی۔بعد نماز جمعہ جنازہ غائب پڑھایا اور مقامی انجمن نے تعزیتی قرار داد بھی پاس کی۔( بدر قادیان ۲۵ مئی ۱۹۶۷ ء والفضل ربوہ ۱۸مئی ۱۹۶۷) تاثرات محترم شیخ نور احمد صاحب منیر مرحوم مربی سلسله آپ حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:۔مجھے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کی طویل بیماری میں آپ سے کئی بار ملاقات کا موقع ملا۔آپ کے منہ سے روحانیت اور نورانیت سے پر کلمات نکلتے۔رضائے الہی رشکر ربانی کے جذبہ سے معمور آپ کی گفتگو ہوتی۔آپ کا ایک خاص امتیاز (رفیق) ابن ( رفیق ) ہونے کا تھا۔حضرت مرزا محموداحمد صاحب (خلیفۃالمسیح الثانی) نے عربی کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے آپ کو ۲۶ جولائی ۱۹۱۳ء کومصر بھیجوایا تھا۔حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی دلی دعاؤں کے ساتھ آپ روانہ ہوئے۔بعض وجوہات سے آپ قاہرہ میں زیادہ قیام نہ کر سکے۔سو آپ بیروت اور پھر حلب چلے گئے۔اور بیت المقدس میں آپ نے عربی کا امتحان پاس کیا۔چوٹی کے اساتذہ سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔استاد الشیخ صالح الرافعی آپ سے بہت ہی محبت و عقیدت رکھتے تھے اور وہ آپ کی ( دعوۃ الی اللہ ) سے بیعت بھی کر چکے تھے۔چنانچہ اس ضمن میں ایک تاریخی مگر نا قابل فراموش واقعہ بیان کرتا ہوں۔ایک مرتبہ بیروت کی میونسپلٹی کے ایک کارکن ٹیکس وصول کرنے آئے۔میں نے ان کی تواضع کی اور کئی امور پر باتیں ہوئیں۔وہ کہنے لگے کہ ٨٣