حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 80
مارشاہ صاحب دعا نہایت گریہ وزاری سے دس منٹ کے قریب کی گئی۔۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔الفضل قادیان ۲۴ ۲۵ جنوری ۱۹۴۴ء) آپ نے دمشق اور بیروت میں کئی غیر معمولی دینی علمی اور تربیتی کارنامے سرانجام دیئے۔مسلسل کئی سال آپ قادیان اور پھر ربوہ میں کلیدی عہدوں پر خدمات بجالاتے رہے۔آپ نے ۳۰ کے قریب تحقیقی کتب تحریر کیں۔آپ کے بیسویوں مضامین اخبار الحکم، الفضل ، فرقان اور ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہوتے رہے۔کشمیر کمیٹی میں آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔وصال حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) ۱۶،۱۵ مئی ۱۹۶۷ء کی درمیانی شب کو بعمر ۷۸ سال رحلت فرما گۓ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۶ امئی کو سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ تعالیٰ ) نے بہشتی مقبرہ ربوہ کے میدان میں نماز جنازہ پڑھائی جنازہ کو کندھا دیا بعد تدفین دعا کرائی۔ربوہ کے احباب بکثرت شریک ہوئے اور بیرون کے احباب بھی شامل ہوئے۔حضرت شاہ صاحب نے اپنی ساری زندگی ( دین حق ) واحمدیت کی خدمت میں وقف رکھی۔( دعوۃ الی اللہ )، تربیتی اور تعلیمی میدان میں آپ کو سلسلہ احمدیہ کی گرانقدر خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔خدمت سلسلہ کے دوران جماعت احمدیہ کے خلاف کئی خطرناک فتنے برپا ہوئے اور جماعت پر بہت سے نازک دور آئے۔ہر مرحلہ پر آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خوشنودی حاصل کی۔جلسہ سالانہ پر آپ کی نقار بر ایک خاص رنگ رکھتی تھیں۔مسلمانان کشمیر کی جد و جہد آزادی میں آپ کو حضور کی زیر ہدایت بھاری خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔مرکز ربوہ کے قیام کے ابتدائی دور میں آپ کو بطور امیر مقامی اور بطور ناظر کام کرنے کا موقع ملا۔بعد پنشن آپ ۱۹۶۲ء میں فالج سے سے بیمار ہونے تک ناظر امور خارجہ کا کام کرتے رہے۔آپ صاحب رؤیا و کشوف اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے کشوف