حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 82
شاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔۔۔میرے والد مرحوم بھی اس عقیدہ کے تھے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے۔اور میں نے ان کو قبول کر لیا ہے۔ان کے والد کا نام پوچھا تو انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔”شیخ صالح الرافعی الطرابلسی انہوں نے بتایا کہ استاد زین العابدین عربی پڑھنے کے لئے ہمارے گھر روزانہ آتے تھے۔اور میں دروازہ کھولا کرتا تھا۔ہمارے گھر میں حضرت شاہ صاحب کا ایک فوٹو بھی ہے جس پر والد صاحب نے یہ لکھا ہے۔تِلْمِيذُ مِنْ تَلَامِيذِ الْمَهْدِى عَلَيْهِ السَّلَامِ جَاءَ مِنَ الْهِنْدِ لِتَلَقَّى الْعُلُومِ الْعَرَبِيَّةِ “ یعنی حضرت مہدی علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد جو ہندوستان سے عربی تعلیم کے لئے آئے۔شاہ صاحب جب قرآن مجید کے بعض مشکل مقامات کی تفسیر بیان کرتے آپ کے کئی عرب ساتھی اور اساتذہ دریافت کرتے۔يَا أُسْتَاذُ مِنْ أَيْنَ تَعَلَّمْتَ هَذَا التَفْسِير۔تو آپ جوابا کہتے تَعَلَّمُتُ مِنْ اسْتَاذِي المُفِضَّالِ الشَّيْحَ نَوْرَ الدَّيْنِ اللہ آپ سے راضی ہو ) یعنی حضرت مولوی نورالدین سے میں نے تفسیر سیکھی ہے۔واقعہ مجھ سے الشیخ عبدالقادر المغربی ریئس المجمع العلمی العربی نے بیان کیا تھا۔شاہ صاحب عرب ممالک میں تین دفعہ تشریف لے گئے۔( پہلی مرتبہ ) ۱۹۱۳ء میں پھر ۱۹۲۵ء میں حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ دمشق گئے۔چھ ماہ تک وہاں قیام کیا وہاں آپ نے شادی بھی کی۔آپ کے برادر نسبتی السید احمد فائق الساعا تی محکمہ پولیس کی ایک کلیدی اسامی پر فائز ہیں۔تیسری مرتبہ آپ ۱۹۵۶ء میں گئے اور تقریباً دو ماہ قیام کیا۔اس دوران آپ بیروت بھی تشریف لائے تھے۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۹ مئی ۱۹۶۷ء ) ۸۴