حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 66 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 66

نارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق رَسُولَهُ بِالْهُدَى (سورة صف:۱۰) کا اعتراف کیا ہے کہ میرے حق میں ہے یہ خدا کا کام تھا کہ مسیح کا دعویٰ تو اس میں بیان کیا گیا مگر اس کو چھپایا اور زبان سے یہ نکلوا دیا کہ وہ آئے گا میں حلفاً یہ کہتا ہوں کہ آج جو دعویٰ کیا گیا ہے براہین (احمدیہ ) میں یہ سارا موجود ہے لفظ بھی کم و بیش نہیں ہوا اگر اس میں الہامات نہ ہوتے تو اعتراض کی گنجائش ہوتی گو اس وقت بھی اعتراض فضول ہوتا کیونکہ وہ دعوی وحی سے نہیں تھا بلکہ اپنی ذاتی رائے تھی خدا تعالیٰ نے یہ اس لئے کیا تاظنون اور جعلسازی کے وہم دور ہوں“۔چوہدری منشی رحیم بخش صاحب کا دوسرا سوال دوسرا سوال ان کا اس امر پر تھا کہ آپ نے مسیح موعود کولکھا ہے کہ وہ قریش میں۔نہیں اور پھر بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ قریشی ہے اس کی مطابقت کیونکر ہو؟ فرمایا:- و مسیح موعود کو جس طرز پر ہم کہتے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں وہ اس اعتبار سے نہیں جیسے قریش ہیں اہل فارس کو رسول اللہ ﷺ نے قریش میں سے ٹھہرایا ہے اور میرا الہام بھی ہے سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْت (مستدرک حاکم کتاب معرفۃ الصحابه باب ذکر سلمان فارسی ) اسی نام سے مجھے اہل بیت میں داخل کیا ہے۔داخل کرنا اور بات ہے اور ہونا اور۔یہ آنحضرت ﷺ کا اختیار ہے اہل فارس کو آنحضرت صلی اللہ نے اہل بیت اور قریش سے ٹھیرایا ہے اس لئے میں رسول اللہ علیہ کے اعلام سے قریش اور اہل بیت میں ہوں۔اس پر حضرت حکیم الامتہ (حضرت مولانا نورالدین صاحب بھیروی اللہ آپ سے راضی ہو) نے يُسْلَبُ المُلْكُ مِنْ قُرَيْشٍ کا ذکر کر کے عرض کیا کہ حضور ہم قریشیوں سے ملک چھینا گیا مگر کسی نے ہماری قوم سے غور نہیں کی کہ کیوں ایسا ہوا؟ تکبر کا اتنا بڑا خطر ناک مرض ہماری قوم میں ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔سید کی لڑکی کسی دوسرے کے گھر میں دینا کفر سمجھا گیا ہے اس پر میر صاحب (حضرت میر ناصر نواب دہلوی اللہ آپ سے راضی ہو) نے کہا ہم سے کوئی پوچھا کرتا ہے تو اس کو یہی جواب دیا کرتے ہیں کہ حضرت یام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی ایک بہن تھی کوئی ہمیں بتائے وہ کس سید کو دی گئی ΥΛ