حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 65
مارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق آپ نے تبلیغ اور اشاعت میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔مومن اس مقام کو جہاں ہوتا ہے نہیں چھوڑتا جب تک خدا نہ چھڑائے“۔مولوی عبد الکریم صاحب (سیالکوٹی) نے ضمنا عرض کیا کہ تعجب کی بات ایک قوم اور بھی تو ہے جس نے خدا کے اس راستباز اور صادق مسیح موعود کو تسلیم کیا ہے اور وہ اس پر ایمان لائی ہے۔اس کے سامنے کیا یہ باتیں نہیں ہیں؟ ہیں مگر ان کو ان پر اعتراض نہیں معلوم ہوتا بلکہ ایمان بڑھتا اور اس کی سچائی پر ایک عرفانی رنگ کی دلیل پیدا ہوتی ہے۔حضرت اقدس نے سن کر فرمایا بے شک یہ تو سچائی کی دلیل ہے نہ اعتراض۔کیونکہ ماننا پڑے گا کہ تصنع سے یہ دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ خدا کے حکم اور وحی سے کیا گیا کیونکہ حضرت عیسی (علیہ السلام) کی آمد کے واقعات کو ہی تو اس میں بیان کیا بلکہ میرا نام عیسی رکھا اور لکھا کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الَّدِينِ كُلِّهِ ( سورة صف:۱۰) میرے حق میں ہے اور ادھر کوئی توجہ نہیں۔پس اس سے صاف ثابت ہے کہ اگر میرا یہ کام ہوتا تو اس میں دوبارہ آنے کا اقرار نہ ہوتا۔یہ اقرار ہی بتاتا ہے کہ یہ خدا کا کام ہے۔اس پر مولوی عبد الکریم صاحب (سیالکوٹی) نے اس نکتہ سے خاص ذوق اٹھا کر عرض کیا کہ یہ بعینہ وہی بات ہے جو قرآن شریف کی حقانیت پر پیش کی جاتی ہے کہ اگر یہ آنحضرت ﷺ کا کلام ہوتا تو اس میں زینب کا قصہ نہ ہوتا۔حضرت اقدس (علیہ السلام) نے پھر اس سلسلہ کلام میں فرمایا کہ ”اب کونسی نئی بات ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ ) میں نہیں ہے براہین ( احمد یہ ) کو طبع ہوئے چھپیں برس کے قریب ہوگزرے ہیں اور اس وقت کے پیدا ہوئے بچے بھی اب بچوں کے باپ ہیں اس میں ساری باتیں درج ہیں بناوٹ کا مقابلہ اس طرح پر ہو سکتا ہے؟ کیا تمیں برس پہلے ایک شخص ایسا منصوبہ کر سکتا ہے؟ جب کہ اسے اتنا بھی یقین نہیں کہ وہ اس عرصہ تک زندہ رہے گا۔پھر کیونکر میں اپنا نام اتنے سال پہلے از خود عیسی رکھ سکتا ہوں اور ان کا موں کو جو اس کے ساتھ منسوب تھے اپنے ساتھ منسوب کرتا۔ہاں اس سے منصوبہ بے شک پایا جا تا اگر میں اس وقت لکھ دیتا کہ آنے والا میں ہی ہوں مگر اس وقت نہیں کہا با وجودیکه هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ ۶۷