حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 67
ناہ صاحب بروز کی حقیقت پھر بروز کے متعلق سلسلہ کلام یوں شروع ہوا۔فرمایا :- باب دوم۔۔۔۔۔سیرت و اخلاق نیکیوں اور بدوں کے بروز ہوتے ہیں۔نیکوں کے بروز میں جو موعود ہے وہ ایک ہی ہے یعنی مسیح موعود۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ( سورة الفاتحة: ۷۶) سے نیکوں کا بروز اور ضالین عیسائیوں کا بروز اور مغضوب سے یہودیوں کا بروز مراد ہے اور یہ عالم بروزی صفت میں پیدا کیا گیا ہے جیسے پہلے نیک یا بد گزرے ہیں ان کے رنگ اور صفات کے لوگ اب بھی ہیں خدا تعالیٰ ان اخلاق اور صفات کو ضائع نہیں کرتا۔ان کے رنگ میں اور آ جاتے ہیں جب یہ امر ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ابرار اور اخیار اپنے اپنے وقت پر ہوتے رہیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلا جاوے گا جب یہ سلسلہ ختم ہو جاوے گا تو دنیا کا بھی خاتمہ ہے لیکن وہ موعود جس کے سپر د عظیم الشان کام ہے وہ ایک ہی ہے کیونکہ جس کا وہ بروز ہے یعنی محمد ﷺ وہ بھی ایک ہی ہے۔صل الله اخبار الحکم قادیان ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۰۸) جب حضرت منشی رحیم بخش صاحب داعی الی اللہ بن گئے ہمارے مہدی سید نا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی تاثیر قدسی نے اشد ترین مخالفین کو بھی فنا فی اللہ وجود بنا دیا اور وہ جو مخالفت میں پیش پیش ہوتے تھے۔آپ کی بیعت کرنے کے بعد دعوت الی اللہ میں بھی پیش پیش نکلے۔حضرت منشی رحیم بخش صاحب عرائض نولیس بیعت کے بعد ایک مستعد داعی الی اللہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے اور آپ حضرت ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے ہمراہ اکٹھے دعوت الی اللہ کے لئے روانہ ہوتے۔آپ کی ان خدمات کی جھلک اخبار بدر کی ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتی ہے۔جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور آپ کا ایک مکتوب گرامی بھی ہے۔اس مکتوب میں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے السلام علیکم کا ۶۹