حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 62 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 62

ارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں مگر خدا کے فضل سے دونوں کے خاندان احمدیت کی آغوش میں پرورش پارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بزرگوں کے نیک نمونہ پر چلنے کی توفیق ے۔اور دونوں کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۳ جون ۱۹۶۷ء صفهیم) رعیہ میں حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب نے منشی رحیم بخش صاحب عرائض نویس کو بغرض مطالعہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ عنایت کی۔جسے پڑھ کر وہ وفات مسیح کے قائل ہو گئے۔دونوں بزرگان کی قادیان روانگی ان بزرگان کی قادیان دارالامان آمد کے بارے میں اخبارالحکم قادیان تحریر کرتا ” بعد ادائے نماز مغرب جب ہمارے سید ومولی شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے تھے تو ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب رعیہ نے عرض کی کہ ایک شخص منشی رحیم بخش عرضی نویس بڑا سخت مخالف تھا مگر اب تحفہ گولڑویہ پڑھ کر اس نے مسیح کی موت کا تو اعتراف کر لیا ہے اور یہ بھی مجھ سے کہا کہ مسیح کا جنازہ پڑھیں۔میں نے تو یہی کہا کہ بعد استصواب واستمزاج حضرت اقدس جواب دوں گا۔فرمایا: جنازہ میت کے لئے دعا ہی ہے کچھ حرج نہیں۔وہ پڑھ لیں یہی اعتراض میری سچائی کا گواہ ہے۔(حضرت ) ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے منشی رحیم بخش عرضی نویس کا خط پیش کیا جس میں دو سوال لکھے تھے پہلا سوال یہ تھا کہ براہین (احمدیہ ) میں مسیح کی آمد ثانی کا اقرار تھا کہ وہی مسیح آئے گا پھر اس کے خلاف دعوی کیا گیا یہ تزلزل بیانی قابل اعتبار نہیں ہوگی فر مایا:- ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہم نے ایسا لکھا ہے اور ہمیں یہ بھی دعوی نہیں ہے کہ ہم عالم الغیب ہیں ایسا دعویٰ کرنا ہمارے نزدیک کفر ہے اصل بات ۶۴