حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 63
مارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آوے ہم کسی امر کو جو مسلمانوں میں مروج ہو چھوڑ نہیں سکتے۔براہین احمدیہ کے وقت اس مسئلہ کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی۔پھر جب کہ ایک چرخہ کاتنے والی بڑھیا بھی یہی عقیدہ رکھتی تھی اور جانتی تھی کہ مسیح دوبارہ آئے گا تو ہم اس کو کیسے چھوڑ سکتے تھے جب تک کہ خدا کی طرف سے صریح حکم نہ آجاتا اس لئے ہمارا بھی یہی خیال تھا۔مخالفوں کی بے ایمانی ہے کہ ایک خیال کو وحی یا الہام بنا کر پیش کرتے ہیں۔براہین احمدیہ ) میں یہ بات عامیانہ اعتقاد کے رنگ میں ہے نہ یہ کہ اس کی نسبت وحی کا دعوی کیا گیا ہو مگر جب خدا تعالیٰ نے ہم پر بذریعہ وحی اس راز کو کھول دیا اور ہم کو سمجھایا اور یہ وحی تو اتر تک پہنچ گئی تو ہم نے اس کو شائع کر دیا۔انبیاء علیہم السلام کی بھی یہی حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کسی امر پر اطلاع دیتا ہے تو وہ اس سے ہٹ جاتے ہیں یا اختیار کرتے ہیں۔دیکھو ا فک عائشہ رضی اللہ عنہا میں رسول اللہ ﷺ کو اول کوئی اطلاع نہ ہوئی یہاں تک نوبت پہنچی کہ حضرت عائشہ اپنے والد کے گھر چلی گئیں اور آنحضرت ﷺ نے یہ بھی کہا کہ اگر ارتکاب کیا ہے تو تو بہ کر لے ان واقعات کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کوکس قد راضطراب تھا مگر یہ راز ایک وقت تک آپ پر نہ کھلا لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنی وحی سے تبریہ کیا اور فرمایا الخَبيثَتُ لِلْخَبِيثِينَ۔۔۔۔وَالطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ (سورۃ النور: ۲۷ ) تو آپ کو اس افک کی حقیقت معلوم ہوئی اس سے کیا آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی فرق آتا ہے؟ ہرگز نہیں وہ شخص ظالم اور نا خدا ترس ہے جو اس قسم کا وہم بھی کرے اور یہ کفر تک پہنچتا ہے۔آنحضرت ﷺ اور انبیاء علیہم السلام نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ وہ عالم الغیب ہیں۔عالم الغیب ہونا خدا کی شان ہے۔یہ لوگ سنت انبیاء علیہم السلام سے اگر واقف اور آگاہ ہوں تو اس قسم کے اعتراض ہرگز نہ کریں افسوس ہے کہ ان کو گلستان بھی یاد نہیں جہاں حضرت یعقوب کی حکایت لکھی ہے۔یہ سچی بات ہے اور ہمیں اس کا اعتراف ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے