حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 61
رشاہ صاحب باب دوم۔۔۔سیرت و اخلاق موعود علیہ السلام کے (رفیق) تھے۔رعیہ کے ہسپتال میں لمبا عرصہ ملازم رہے ہیں۔انہی ایام کا واقعہ ہے کہ ایک روز حضرت شاہ صاحب نماز کی ادائیگی کے لئے نزدیکی ( بیت) میں تشریف لے گئے اس وقت ایک سخت مخالفت احمدیت چوہدری رحیم بخش صاحب وضو کے لئے مٹی کا لوٹا ہاتھ میں لئے وہاں موجود تھے۔حضرت ڈاکٹر صاحب کو دیکھتے ہی مذہبی بات چیت شروع کر دی۔حضرت ڈاکٹر صاحب کی کسی بات پر چوہدری رحیم بخش صاحب نے شدید غصہ میں آ کر مٹی کا لوٹا زور سے آپ کے ماتھے پردے مارا۔لوٹا ماتھے پر لگتے ہی ٹوٹ گیا۔ماتھے کی ہڈی تک ماؤف ہوگئی اور خون زور سے بہنے لگا۔ڈاکٹر صاحب کے کپڑے خون سے لت پت ہو گئے۔آپ نے زخم والی جگہ کو ہاتھ سے تھام لیا اور فوراً مرہم پٹی کے لئے ہسپتال چل دیئے۔ان کے واپس چلے جانے پر چوہدری رحیم بخش صاحب گھبرائے کے اب کیا ہوگا؟ یہ سرکاری ڈاکٹر ہیں۔افسر بھی ان کی سنیں گے اور میرے بچنے کی اب کوئی صورت نہیں۔میں کہاں جاؤں! اور کیا کروں! وہ ان خیالات میں ڈرتے ہوئے اور سہمے ہوئے ( بیت ) میں ہی دبکے پڑے رہے۔اُدھر ڈاکٹر صاحب نے ہسپتال میں جا کر زخمی سر کی مرہم پٹی کی۔دوائی لگائی اور پھر خون آلود کپڑے بدل کر دوبارہ نماز کے لئے اسی (بیت) میں آگئے۔جب ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب دوباره (بیت) میں داخل ہوئے اور چوہدری رحیم بخش صاحب کو وہاں دیکھا تو دیکھتے ہی آپ مسکرائے اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہ:- چوہدری رحیم بخش ! ابھی آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوا ہے یا نہیں؟“ یہ فقرہ سنتے ہی چودھری رحیم بخش کی حالت غیر ہوگئی۔فوراً ہاتھ جوڑتے ہوئے معافی کے میجی ہوئے اور کہنے لگے کہ شاہ صاحب! میری بیعت کا خط لکھ دیں۔یہ اعلیٰ صبر کا نمونہ اور نرمی اور عفو کا سلوک سوائے الہی جماعت کے افراد کے کسی سے سرزد نہیں ہوسکتا۔چنانچہ چوہدری صاحب احمدی ہو گئے کچھ عرصہ بعد ان کے باقی افراد خانہ بھی جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔چوہدری صاحب اور حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب تو ۶۳