حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 60 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 60

مارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق ہو ) شفا خانہ میں مریضوں کے علاج معالجہ سے فارغ ہو کر دعوۃ الی اللہ کے لئے کچہری میں تشریف لے جاتے اور دعوت الی اللہ کا سلسلہ جاری رہتا۔کچہری میں مولوی رحیم بخش صاحب عرائض نو لیس تھے۔جن سے آپ کا تبادلہ خیالات ہوتا رہتا تھا۔ایک روز دوپہر کا وقت تھا۔حضرت شاہ صاحب مولوی صاحب سے تبادلہ خیالات کر رہے تھے کہ نبوت کے مسئلہ پر مولوی صاحب جوش میں آگئے اور اس مسئلہ پر آپ نے ایک لوٹا اُٹھا کر حضرت شاہ صاحب کے ماتھے پر دے مارا جس سے لوٹا خون بہنا شروع ہو گیا۔حضرت شاہ صاحب کچہری سے فوری طور پر ہسپتال تشریف لے گئے۔مرہم پٹی کر کے اور لباس تبدیل کر کے دوبارہ کچہری میں تشریف لے آئے۔اس دوران مولوی صاحب کی حالت بدل گئی اور کچہری میں جتنے لوگ موجود تھے سب نے کہا ڈاکٹر صاحب سرکاری آدمی ہیں۔آپ نے یہ کیا کر دیا آپ کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔مولوی صاحب اسی طھبراہٹ میں تھے کہ شاہ صاحب نے آکر مولوی صاحب سے مخاطب ہوکر فرمایا مولوی صاحب کیا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہے؟ کچہری میں سب دوست شاہ صاحب کے اس رویہ سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔اگر شاہ صاحب چاہتے تو ان پر مقدمہ بھی کروا سکتے تھے تاہم آپ نے کمال وسعت حوصلہ کا مظاہرہ فرما کر درگزر کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی صاحب پر رقت طاری ہو گئی اور بے اختیار ہو کر کہنے لگے کہ شاہ صاحب میری بیعت کا خط لکھ دیں۔اور اپنی غلطی پر معذرت کارویہ اختیار کیا۔اس کے بعد ان بزرگان کا قادیان جانے کا پروگرام بنا اور زیارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے قادیان روانہ ہو گئے۔اس واقعہ کی بابت مکرم سید احمد علی شاہ صاحب مربی سلسلہ تحریر کرتے ہیں :- مورخہ ۴ امئی ۱۹۶۷ء کو مجھے سلسلہ کے ایک کام کے لئے دھرگ میانہ نزد رعیہ ضلع سیالکوٹ میں جانے پر مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب امیر جماعت احمد یہ حلقہ دھرگ نے ایک واقعہ سنایا جو سبق آموز اور از دیادِ ایمان کا موجب ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے والد ماجد حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب جو کہ حضرت مسیح ۶۲