حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 59 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 59

مارشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق بارہ میں گاؤں کے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں اور ہمارے گھروں میں بھی اُن کا ذکر ہوتا تھا۔آپ نے بتایا کہ ا۔آپ بڑے با اخلاق انسان تھے ۲۔آپ نے یہاں بڑا اچھا دور گزارا،۔ساری دنیا سے تعاون کرتے تھے ہم۔سب ان کی صفات بیان کرتے تھے، ۵۔آپ اپنی ڈیوٹی پورے طور پر ادا کرتے تھے۔مکرم چوہدری حنیف احمد صاحب سکواڈرن لیڈر موضع فتو کے تحصیل و ضلع نارووال ) حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) رعیہ میں جہاں مریضوں کا ظاہری علاج کرتے تھے۔وہاں آپ کی بدولت کئی سعید روحوں کو سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔۱۹۰۲ء میں رعیہ خاص میں ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ایک منشی مولوی رحیم بخش صاحب عرائض نولیس نے آپ کو ایک لوٹا مارا جس سے آپ زخمی ہو گئے۔تاریخ سلسلہ میں یہ واقعہ لوٹے والا واقعہ کے نام سے مشہور ہے۔چند ماہ قبل خاکسار جب موضع فتو کے حالات دریافت کرنے گیا تو خاکسار کی ملاقات مکرم چوہدری حنیف احمد صاحب سے ہوئی جو احمدی ہیں۔وہاں کے صدر جماعت بھی ہیں۔آپ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ اس بزرگ کے پوتے ہیں۔جنہوں نے مخالفت کے جوش میں آکر حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) کی پیشانی پر لوٹادے مارا تھا۔چنانچہ چوہدری حنیف احمد صاحب آف فتو کے نے بتایا کہ دادا جان حضرت چوہدری منشی رحیم بخش صاحب ولد چوہدری عبداللہ صاحب رعیہ کی تحصیل کچہری میں عرائض نویس اور قانون دان تھے اور عمر میں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) سے بڑے تھے۔اس علاقہ میں لوگ آپ سے فتاویٰ حاصل کرتے تھے۔آپ دین کا شغف رکھنے والے انسان تھے۔خاکسار کے دادا جان حضرت شاہ صاحب کے زیر ( دعوۃ ) تھے۔شفاخانہ رعیہ اور کچہری رعیہ کا درمیانی فاصلہ قریباً دو فرلانگ بنتا ہے۔حضرت شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ད