حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 58
مارشاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق اسے علاج کے طور پر گلو اجوائن بتاتے اور تسلی تشفی سے ہی مریض کو آدھا صحت یاب کر دیتے۔آپ کا برتاؤ ہر ایک سے بہت اچھا تھا خواہ کوئی ہندو سکھ اور عیسائی بھی آتا تو اس کے ساتھ غیر معمولی شفقت کا سلوک فرماتے۔محترم ملک چراغ دین صاحب نے پنجابی میں بار بار یہ فقرہ دھرایا که اونہاں نوں ملک جانند اسی اُونہاں دی ساری دنیا عزت کردی سی یعنی انہیں دنیا جانتی تھی اور تمام لوگ اُن کی عزت کرتے تھے۔حضرت شاہ صاحب لوگوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے تھے اور جو بھی ان کے پاس جاتا اس کی مدد کرتے“۔ملک چراغ دین صاحب نے بتایا کہ آپ کے گھر اور ہسپتال کے قریب ایک بہت بڑا پیپل کا درخت ہے جس کے نیچے آپ کرسی میز لگا کر لوگوں کو دوائی دیتے تھے۔پیپل کے نیچے صنفیں بچھا کر نمازیں بھی ادا کرتے تھے۔آپ غریب غربا سے فیس نہیں لیتے تھے۔اور مفت علاج کرتے تھے اور لوگوں کی امداد بھی کرتے تھے۔۱۹۲۰ ء میں آپ کے ہجرت کر جانے کے بعد لوگ آپ کو بڑا یاد کیا کرتے تھے۔مکرم چوہدری غلام محمد صاحب ولد فقو صاحب موضع متکے تحصیل و ضلع نارووال عمر قریباً۰ ۸ سال) انہوں نے بتایا کہ اس علاقے کے بزرگان اور پرانے لوگ جواب سارے وفات ہیں۔حضرت شاہ صاحب کا بڑا ذ کر کیا کرتے تھے۔اور ان کے کارناموں کا ذکر اکثر گھروں اور بیٹھکوں میں ہوتا تھا۔جس کا ذکر گذشتہ صفحات میں گذر چکا ہے۔عمومی طور پر انہوں نے آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ذکر کیا اور نیکی اور بزرگی کی بابت اپنے والد صاحب کے تاثرات بتلائے۔مکرم چوہدری محمد اسماعیل صاحب موضع متکے نز در عیہ خاص تحصیل و ضلع نارووال عمر قریباً ۰ ۸ سال) مکرم چوہدری محمد اسماعیل صاحب نے بھی اس علاقہ کے پرانے بزرگوں کی روایات کا تذکرہ کیا کہ ہم بچپن سے ہی حضرت شاہ صاحب کے اخلاق و واقعات کے ۶۰