حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 57
مارشاہ صاحب باب دوم۔۔۔۔سیرت و اخلاق آپ رعیہ میں بطور اسسٹنٹ سرجن متعین رہے۔۱۹۲۰ء تک آپ وہاں خدمات بجالاتے رہے۔اس زمانہ میں لوگ دور دراز علاقوں سے علاج کے لئے رعیہ آتے تھے۔رعیہ خاص کے بعض مضافات مثلا متکے ،ہفتوں کے بھنگالہ، ہلو والی، کافی جعفر آباد، کلاس والی، بدوملہی ، جیون گورائیہ، باٹھا نوالہ، پیچو والی کوٹلی نتھو ملی ، جے سنگھ والا ، بیلو والی اور بعض اور ملحقہ قصبات اور دیہات کے لوگ رعیہ خاص بغرض علاج جاتے تھے۔خاکسار مرتب کتاب ہذا کو ان میں سے بعض مواضع اور قصبات کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا اور جس گاؤں میں بھی گئے وہاں کے ستر سال سے زائد عمر کے بزرگان نے حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب کا ذکر خیر کیا۔آپ کی حیات طیبہ کے بعض حالات و واقعات جو انہوں نے خود مشاہدہ کئے تھے یا اپنے والدین سے سنے تھے۔راقم الحروف کو بتلائے۔خاکسار مورخہ ۱۶ تا ۱۸ جولائی ۲۰۰۲ ء کور بوہ سے بدوملہی ، رعیہ خاص ،فتو کے اور متکے کے قصبات کے لئے بغرض سفر روانہ ہوا۔ان علاقوں میں آپ کا روحانی وجسمانی فیضان جاری تھا اور خاندان سادات کی بدولت ہندو، سکھ اور مسلمان آپ کو پیر مانتے تھے۔رعیہ ،فتو کے اور متکے کے گاؤں کے دوستوں نے بتایا کہ آپ بلا مذہب وملت ہر ایک کو فیض روحانی و جسمانی پہنچاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج اگر چہ وہ لوگ جنہوں نے آپ کو دیکھا ہے شاذ ہی رہ گئے ہیں تاہم ان کی نسلیں اُس زمانہ کی بہت سی یاد میں اپنے سینوں میں محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ان دیہات کی بعض بزرگ شخصیات کے تاثرات یہاں پیش کئے جارہے ہیں۔مکرم با با ملک چراغ دین صاحب ولد ملک گوہر صاحب عمر ۱۰۰ سال۔موضع رعیہ خاص تحصیل و ضلع نارووال ) خاکسار نے ۱۸ جولائی ۲۰۰۲ ء کو اُن سے تاثرات حاصل کئے۔راقم کے استفسار پر جو باتیں آپ نے پنجابی زبان میں بیان کیں وہ ذیل میں بیان کی جارہی ہیں :- نہایت بااخلاق اور اچھے انسان تھے۔کبھی کسی کو ناراض نہیں ہونے دیتے تھے۔جب کوئی مریض کبھی بخار کے علاج کے لئے ان کے پاس جاتا تو ۵۹