حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 203
شاہ صاحب باب ہفتم۔مصیبت جو میری شامت اعمال کا نتیجہ تھی وہ ٹال دی۔یا اس کا نتیجہ عالم برزخ میں میرے لئے بطور امانت رکھا۔بہر حال یہ بھی سب قبولیت کے انعام میں ہوا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو کسی کی دعا جو خلوص قلب اور تضرع سے کی جاوے ، کبھی بھی رد نہیں کرتے۔دعا ایک بیج کی طرح ہے جب کوئی پیج کسی غلہ کا یا جنس کا زمین میں بویا جاوے۔تو عمدہ زمین میں بلحاظ حفاظت و نگہداشت کے وہ پیج اپنی اپنی فطرتی استعداد کے لحاظ سے ضرور زمین پر اپنا رنگ اور روئیدگی کا جامہ پہن کر نمودار ہوتا ہے۔مگر ہر جنس کے بیج کے نمودار ہونے کی مختلف میعادیں ہوتی ہیں۔وہ ضرور اپنی اپنی میعاد پر اپنی نشو و نما پاتے ہیں۔اسی طرح سے سب دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جو نہیں قبول ہوتیں، وہ دوسرے رنگ میں ظاہر ہو کر رہتی ہیں اور دعا کنندہ سمجھ لیتا ہے کہ میری منشاء کے مطابق قبول نہیں ہونی چاہئے تھیں۔پس بعض دعا ئیں تو فوراً دعا کرتے ہی اور بعض ایک ماہ میں بعض ایک سال میں اور بعض اس سے زیادہ عرصہ میں قبول ہوتی ہیں۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تین ہزار سال کے بعد قبول ہوئی۔الغرض دعاؤں میں مایوسی اور ضعف اور تکان اور بزدلی سے کام نہ لیا جاوے۔ان تھک اور مردانہ وار کرتے تک لگا تار لگا رہے۔تو ضرور قبولیت سے کامیابی ہوگی۔لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی دعاؤں میں کامیاب ہوتا رہے تو وہ اپنے آپ کو مستجاب الدعوات دیکھ کر نازاں اور متکبر نہ ہو جائے کیونکہ یہ کوئی خاص قرب کا درجہ اس نے حاصل نہیں کیا اور اس سے مقبول الہی و مقرب خدا نہیں بن گیا کیونکہ اگر وہ ایک سائلا نہ حیثیت میں ایک سنی اور غنی بادشاہ کے دروازے پر ہر روز بوقت سوال و عرض کے کچھ حاصل کر لیتا ہے اور کبھی بھی محروم نہیں جاتا تو گویا وہ تو بھیک مانگنے والے فقیروں اور سوالیوں کے رنگ میں اس معطی و منعم کے فیض سے محروم نہیں رہتا۔بہر حال یہ سائل ہے اور وہ معطی ہے۔یہ کیا بن گیا۔آخر ہم انسان بھی تو اپنے گھر کے گتے کو جو ہمیشہ ہمارے دروازے پر گرا رہتا ہے، ہڈی یا ٹکڑا ڈال دیتے ہیں تو اس سے اُس کی شان یا فطرت میں کوئی ۲۰۵