حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 202
رشاہ صاحب باب ہفتم۔موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں بہت شرح وبسط سے اس کی فلاسفی اور حقیقت کو ایسا مفصل بیان کیا ہے کہ جو بعد زمانہ نبوت کے کسی ولی ،غوث، قطب،صالح ، اہل اللہ نے بیان نہیں کیا۔ان کتابوں کو غور سے پڑھو اور اس نکتہ کو عمل میں لاؤ۔اور دعاؤں کو اپنی غذا اور پانی مثل غذا جسمانی بنا لو اور اپنی ایک طبع ثانی میں شامل کر لو۔اور مایوسی کو تم زہر قاتل اور ہلاک کنندہ رُوح و جسم سمجھو۔العیاذ باللہ۔اب اس جگہ میں بطور تحدیث بالنعمۃ کے اور ترغیب مخلوق الہی کی غرض سے اپنا تجر بہ بابت استجابت دعا تحریر کرتا ہوں۔شاید تمہیں بھی ترغیب اور شوق پیدا ہو۔میں بخدا سچ کہتا ہوں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اور غالبا بلوغ سے اول عالم طفولیت میں ہی نماز اور دعاؤں سے مجھ کو ایک دلچپسی ، جس کو ٹھرک کہتے ہیں۔بفضل خدا میری طبیعت میں ایسے رچ گئی کہ میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا اور آرام و قرار نہیں پکڑ سکتا تھا اور اس کو ایک غذا جسمانی کی طرح سمجھتا تھا۔شاید چونکہ میں پانچ یا چھ سال سے یتیم و بیکس رہ گیا تھا۔اور یہ زمانہ قیمی بھی اس کا محرک ہوا ہو۔اس لئے یہ بھی اُس ذات الہی کا رحم اور فضل تھا کہ میں ہر ایک حاجت، کیا چھوٹی کیا بڑی۔سب میں دعاؤں سے کامیاب ہوتا رہا۔میرے ساتھ ہمیشہ عادت اللہ یہی کام کرتی رہی کہ تا وقتیکہ میں اپنی ضروریات سائلا نہ طور پر اوّل سے عرض نہ کر لوں میری مشکل آسان اور کامیابی نہیں ہوتی تھی۔جیسا کہ ایک بچہ شیر خوار جب تک دودھ کے لئے اپنی تڑپ ، اپنے چہرہ و حرکات سے اپنی والدہ پر ظاہر نہ کرے۔تب تک اس کی توجہ کامل طور پر مبذول نہیں ہوتی۔یہی حال ربّ اور فیاض مطلق کا ہے۔اور کثرت سے میری دعائیں قبول ہوتی رہی ہیں۔شاید سو دعاؤں میں دس یا ہیں حسب مدعا میری قبول نہ ہوئی ہوں گی۔مگر وہ جو میری منشاء کے مطابق بظاہر قبول نہیں ہوئی تھیں، وہ بھی درحقیقت رد نہیں ہوئی ہیں بلکہ دوسرے رنگ میں قبول ہوئی ہیں۔یعنی یا تو وہ میرے حق میں مضر اور موجب نقصان عظیم تھیں۔اس لئے اس فیاض مطلق نے مجھ کو بذریعہ رڈ محفوظ رکھا۔یا اس کے عوض اور کوئی بلا یا ۲۰۴