حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 204 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 204

ناه صاحب باب ہفتم۔فرق نہیں پڑ سکتا۔انسان انسان ہے۔گفتا گنتا ہی ہے۔اس میں اس کے لئے کونسی شان یا فخر ہے۔اسی طرح ہے بندہ بندہ ہے۔اور خدا خدا۔یہ سائل ہے اور وہ وہ معطی ہے۔ہاں البتہ اس کا فضل و احسان ہے کہ وہ اپنے سائل کو اور اپنے دروازہ پر افتادگان کو نو از تا اور انہیں اپنے جو د اور فیضانِ ربوبیت سے کبھی بھی محروم نہیں رکھتا۔دعا تو اللہ تعالیٰ سے فیوض و برکات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ اور ابتدائی منزل ہے۔اس لئے تم کو اس منزل مبارک کے حصول کے لئے سر سے پاؤں تک کوشاں اور ہر حالت میں چلتے پھرتے حسب فرصت دعاؤں کو طبع ثانی اور خدائے جسمانی کی طرح اپنا شیوہ و وطیرہ اور بقاء رُوح کیلئے انہیں وسیلہ اور دار و مدار حیات روح سمجھنا چاہئے۔اگر ایسی حالت میسر ہو جاوے تو شکر کرو۔اور اس کا فضل و احسان سمجھو کہ تمہارے سوالوں اور دعاؤں کو رد نہیں کرتا اور یہ کہ تم نے اپنا حقیقی اور معطی رب شناخت کر لیا اور اس نے اپنے سائل اور محتاج بندہ کی حالت دیکھ لی ہے کہ اس کا کوئی ذریعہ قضائے حاجات کا میرے بغیر نہیں ہے۔پس وہ رفتہ رفتہ اپنے فضل واحسان سے تمہاری سائلا نہ ومحتاجانہ حالت سے ترقی دے کر اپنے قرب کے اُس اعلیٰ مقام پر تم کو پہنچا دے گا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالات اسلام میں فنا اور بقاء کی منازل میں اور براہین احمدیہ ** کے حصہ پنجم میں روحانی ترقی کے مقامات ستہ میں بالتفصیل فرمایا ہے۔وہاں ملاحظہ کرو اور ان مقامات کے حصول کے لئے دعائیں کرو اور کوشش کرو کہ اس منزل پر تم کو اللہ تعالیٰ پہنچا دیوے کیونکہ یہ قابل عزت اور اعلیٰ درجہ مقام قرب الہی ہے۔مگر اس مقام پر بھی پہنچ کر تم کو مطمئن اور نازاں نہیں ہونا چاہئے۔جب تک کہ آخری کوچ اس دنیا سے ہو کر عالم برزخ یا عالم بقاء میں ان پاس شدہ مقبولانِ الہی کی ہمسائیگی میں تم کو جگہ نہ ملے۔تب تک لگاتار دعاؤں میں لگے رہو۔جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام با وجودی مقرب ہونے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد پنجم ۶۳ تا ۸۵ ** ملاحظہ ہو براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲۱ صفحه ۱۸۵ تا ۲۲۸ ٢٠٦