حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 201 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 201

ناہ صاحب باب ہفتم۔سیر ہر دانہ بنوشتہ عیاں ئیں فنکار میں فلاں ابن فلاں ابن فلاں * دعاؤں میں لگا تار ڈھیٹ سوالیوں اور خر گدا کی طرح سے استقلال اور امید کامل سے لگے رہو حتی کہ تمہاری دعائیں مانگتے مانگتے جان بھی نکل جائے۔مگر تم اخلاص اور امید کامل کے دروازے اور قادر مطلق اور با اختیارکل کے آستانہ پر ہمیشہ گرے رہو۔خواہ مر بھی جاؤ تب بھی مایوسی کو نزدیک نہ آنے دو۔کیونکہ یہ مایوسی کفر ہے۔اور مومن بھی مایوس نہیں ہوتا۔کیونکہ اس کا قادر خدا علی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ہے۔وہ کسی کی دعا بھی بھی رد نہیں کرتا کیونکہ ہماری دعائیں اور حاجتیں محدود ہیں اور اس کی استجابت دعا اور حاجت روائی اور اس کا فضل و کرم اور اس کے احسانات وانعامات بے پایاں ولامحدود ہیں۔اگر کسی مصلحت الہی کے ماتحت اس عالم میں انسان اپنی دعا اور حاجت براری میں کامیاب نہ ہوا تو پھر چونکہ اس نے بعد موت عالم برزخ میں اس خدائے قادر عَلي كُلِّ شَيْيِ قدیر کے سامنے حاضر ہونا ہے۔کیونکہ رُوح کسی کا فن نہیں ہوتا۔صرف نقل مکانی۔اس لئے وہاں عالم برزخ میں وہ اس کی مشکل کشائی کر دے گا۔اگر وہاں نہ ہوئی تو پھر عالم جزاء وسزاء میں اس کی اپیل اور فریا دستی جاوے گی۔اگر وہاں نہ سنی گئی تو پھر بہشت یا دوزخ کے مکان میں اس کی دستگیری ہوگی۔تو پھر مایوسی کیا معنی رکھتی ہے۔وہ قادر ومنعم و محسن خدا اپنی صفات میں ہمیشہ اس کے سر پر قائم ہے اور یہ محتاج دعا کنندہ سائل بھی اس کے سامنے اس کی بارگاہ جلال و جمال میں ہمیشہ حاضر رہے گا۔تو پھر مایوسی کیا بلا ہے۔دیکھو میں پھر کہتا ہوں کہ اپنے قادر محسن ورب العالمین خدا سے مایوس نہ ہونا۔اگر تم مایوس ہو گئے تو اپنے قادر و منعم رب کو اس کی صفات کا ملہ قدرت ( منعم حقیقی و حسن و معطی و سمیع و بصیر و قاضی الحاجات وغیرہ) کو بریکار اور معطل قرار دینا ہوگا۔جس سے ذات وصفات الہی میں نقص اور عجز اور بے اختیاری کے الزامات جوشانِ خدائی کے منافی اور نقیض ہیں عائد کر کے خود انسان بے ایمان ہو جاتا ہے۔اور پھر اس کے اس حکم میں کہ وَمَا دُعَاءُ الكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ (سورة الرعد : ۱۵) کا مصداق ٹھہرتا ہے۔یہاں ضلال کے معنی ناکامی اور مایوسی اور کمزوری وغیرہ کے ہیں۔الغرض اس مسئلہ دعا میں حضرت مسیح ہر دانے پر کھانا کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے۔(مرتب)