حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 8 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 8

مارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔ابتدائی حالات مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میری عمر قریباً سات، آٹھ سال کی تھی (۱۸۹۵-۹۶ ء کا ذکر ہو رہا ہے ) تو اس وقت ہمارے گھر میں اس بات کا تذکرہ ہوا کہ کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ کہ اس نے یہ خواب بھی دیکھا ہے۔کہ کچھ فرشتے ہیں جو کالے کالے پودے لگارہے ہیں۔جن کی تعبیر یہ بتائی ہے کہ دنیا میں طاعون پھیلے گی۔اور یہ کہ میری آمد کی یہ بھی نشانی ہے ( یعنی طاعون پھیلنے کی علامت )۔اس وقت ہم ( تحصیل) رعیہ ضلع سیالکوٹ میں تھے۔والد صاحب شفاخانہ کے انچارج ڈاکٹر تھے۔اسی دوران میں نے ایک خواب دیکھا۔کہ کسی نے گھر میں آ کر اطلاع دی ہے کہ حضرت نبی کریم یہ تشریف لا رہے ہیں۔چنانچہ ہم باہر ان کے استقبال کے لئے دوڑے۔شفاخانہ کی فصیل کے مشرقی جانب کیا دیکھتا ہوں کہ پہلی میں آنحضرت علہ سوار ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے سبز عمامہ ہے اور بھاری چہرہ ہے۔رنگ بھی سفید گندم گوں ہے۔اور ریش مبارک بھی سفید ہے۔اور سورج نکلا ہوا ہے۔مجھے فرماتے ہیں۔کہ آپ کو قرآن پڑھانے کے لئے آیا ہوں۔انہی ایام میں میں نے خواب بھی دیکھا کہ رعیہ کی مسجد ہے اس کے دروازه پر لا اله الا الله محمدرسول اللہ لکھا ہوا ہے لیکن اس کے الفاظ مدہم ہیں۔امام الزمان آتے ہیں مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔میں بھی ساتھ ہو لیتا ہوں وہاں صفیں ٹیڑھی ہیں۔آپ ان صفوں کو درست کر رہے ہیں۔ہم اس زمانہ میں ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے۔اس زمانہ میں اس بات کا عام چرچا تھا کہ مسلمان برباد ہو چکے ہیں اور تیرھویں صدی کا آخر ہے۔اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں حضرت امام مہدی (علیہ السلام) تشریف لائیں گے۔اور ان کے بعد حضرت عیسی (علیہ السلام ) بھی تشریف لائیں گے چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ مرحومہ بھی امام مہدی (علیہ السلام) کی آمد کا ذکر بڑی خوشی سے کیا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ وہ زمانہ قریب آرہا ہے۔اور یہ بھی ذکر کیا کرتی تھیں کہ رمضان میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا ہونا بھی حضرت مہدی کے زمانہ کے لئے مخصوص تھا۔سو وہ بھی نشان پورا ہو چکا ہے۔ممکن ہے یہ خواہیں بچپن میں