حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 9
مارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔ابتدائی حالات شنیدہ باتوں کے اثر کے ماتحت خواب کی صورت میں نظر آتی ہوں لیکن واقعات بتلاتے ہیں کہ وہ مہدی اور مسیح کے آنے کا عام چر چا اور یہ خواہیں جو بڑوں چھوٹوں کو اس زمانہ میں آیا کرتی تھیں آنے والے واقعات کے لئے بطور آسمانی اطلاع کے تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہم نے ( دین حق ) کا سورج بھی دیکھا اور قرآن مجید بھی پڑھا۔حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے کہ ( دین حق) کی زندگی میرے ساتھ وابستہ ہے اور مجھے چھوڑ کر قرآن مجید کا سمجھنانا ممکن ہے۔یہ دونوں باتیں سچ ہیں“۔الفضل قادیان ۳۰ مارچ ۱۹۴۳ صفحه ۳) بیعت حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب آپ نے با قاعدہ طور پر دستی بیعت اپریل ۱۹۰۱ء میں قادیان دارلامان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر کی۔آپ اس وقت رعیہ ضلع سیالکوٹ ( موجودہ نارووال میں طبی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔چنانچہ حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب اپنی بیعت کے بارے میں بیان فرماتے ہیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا احمدی ہوں۔میں نے اغلباً ۱۹۰۱ء میں بیعت کی تھی۔میں حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانے میں حضرت اقدس علیہ السلام کو صحیح طور پر اور اصل معنوں میں اللہ کا (مہدی) (ماهنامه فرقان قادیان جون ۱۹۴۳ء صفحه ۱۴) یقین کرتا تھا۔بیعت کی بابت حضرت ولی اللہ شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:۔رعیہ سے قادیان دارلامان قربیاً ۳۰ میل کے فاصلہ پر واقعہ ہے۔جب آپ نے بیعت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو نصائح فرمائیں کہ آپ کو ہمارے پاس بار بار آنا چاہیے تا کہ ہمارا فیضان قلبی اور صحبت کے اثر کا پر تو آپ پر پڑ کر آپ کی روحانی ترقیات ہوں“۔میں نے عرض کی کہ حضور ( علیہ السلام ) ملازمت میں رخصت بار بار نہیں ملتی۔فرمایا ایسے حالات میں آپ بذریعہ خطوط بار بار یاد دہانی کراتے رہا کریں تا کہ