حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 177 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 177

مارشاہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔۔ذکره کے لفظ سے مخاطب فرمایا کرتے تھے ) حضور انور نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے گھٹنے کا کیا حال ہے۔جو حال تھا میں نے بتا دیا اور دعا کے لئے بھی عرض کی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے۔اس کے بعد میرے چھوٹے بھائیوں کے نام دریافت فرمائے۔حضور علیہ السلام اس وقت کچھ لکھ رہے تھے۔میں وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔انہی دنوں میں جبکہ اس واقعہ کو ایک ہفتہ بھی نہ گزرا ہوگا کہ میری بیساکھی کو ایک کلاس فیلو نے کھیلتے ہوئے تو ڑ دیا۔قادیان کی اس زمانہ میں یہ حالت تھی کہ کوئی چھڑی تک نہ مل سکی۔ایک شخص کو پیسے دیئے۔کہ بٹالہ سے لے آئے۔مگر وہ بھول گئے۔اور ہفتہ عشرہ تک نہ لا سکے۔اس اثناء میں میں سرکنڈے کے سہارے سے دیواروں کو پکڑ پکڑ کر چلتا رہا۔اور محسوس کرنے لگا کہ میری ٹانگ اور پاؤں طاقت پکڑ رہے ہیں اس کے بعد مجھے سہارے کے لئے بیساکھی بنانے کی ضرورت ہی نہ رہی اور تصرف الہی کچھ ایسا ہوا کہ بغیر چھڑی کے چلنے لگ گیا۔مجھے کامل یقین ہے کہ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کا ہی نتیجہ تھا کہ جس نے غیر معمولی طور پر یہ تصرف کیا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے اس وقت یہ بھی فرمایا تھا۔کہ میٹھے تیل میں کافور ملا کر مالش کیا کرو۔چنانچہ مالش کرواتا رہا۔اس کے سوا اور کسی علاج کی ضرورت نہ پڑی۔اور میری ٹانگ میں جو خفیف سانقص باقی رہا۔اس نے کوہ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں اور تھکلیالہ پڑاوا علاقہ پونچھ کی سنگلاخ اور دشوار گزار پہاڑیوں میں پیدل سفر کرنے میں کسی قسم کی روک پیدا نہیں کی۔میں گھوڑے کی سواری جانتا ہوں اور گذشتہ جنگ عظیم میں سوار فوج میں شریک ہوا۔اور دو معرکوں میں حصہ بھی لیا۔سابق وزیر اعظم ترکی حسن رؤف پاشا ہماری فوج کے کمانڈنگ افسر تھے چند سال ہوئے وہ ہندوستان میں تشریف لائے۔اور انہوں نے میری جفاکش خدمات کا اعتراف کیا۔یہ ذکر میں نے اس لئے کیا ہے کہ حضور علیہ السلام کی استجابت دعا کی شان معلوم ہو“۔الفضل قادیان ۱۳ پریل ۱۹۴۳ء صفحه ۳) 19