حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 176 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 176

شاہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره تو میری ٹانگ دوہری ہوکر گھٹنا چچی کے اند رگڑ گیا جس پر میں بیہوش ہو گیا۔یہ بھی یاد نہیں کہ میرا گھٹنا کب اور کس نے چاچی سے نکالا اور کب مجھے ہوش آیا لیکن ہاں یہ مجھے یاد ہے کہ نوکر نے مجھے اٹھایا اور میں اس وقت رور ہا تھا۔یہ چوٹ ایسی سخت تھی کہ جس نے مجھے چلنے پھرنے سے معطل کر دیا کیونکہ گھٹنے کا جوڑ نکل گیا تھا اور مختلف ڈاکٹروں کو دکھایا گیا یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا کہ حضرت والد صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور حضور کی خدمت میں میرے لئے دعا کی درخواست کی۔غالباً ۱۹۰۲ ء میں مجھے سیالکوٹ کے ہسپتال میں علاج کے لئے لے جایا گیا اور میرے گھٹنے پر وقفہ وقفہ کے بعد مجھے کلو را فارم سونگھا کر اپریشن کیا گیا۔اس سے میرا پاؤں زمین پر لگنے لگا لیکن کمزوری اتنی تھی کہ میں بغیر سہارے کے چل نہیں سکتا تھا۔اس لئے مجبوراً مجھے بیساکھی کے سہارے چلنا پڑتا تھا۔اسی حالت میں قادیان آیا جب والد صاحب مرحوم تین ماہ کی رخصت لے کر قادیان آتے۔ہم حضرت اقدس کے گھر میں رہا کرتے تھے گرمی کے ایام میں ایک دن عصر کے بعد جب حضرت ام المومنین (اللہ آپ سے راضی ہو ) اور گھر کی دیگر مستورات باغ کی طرف سیر کو گئی ہوئی تھیں تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تنہا دیکھ کر پنکھاہاتھ میں لیا اور حضور انور کے پاس آ کر پنکھا کرنا شروع کر دیا۔حضور علیہ السلام اس وقت ایک چٹائی پر جو زمین پر بچھی ہوئی تھی بیٹھے ہوئے تھے۔بدن پر باریک ململ کی قمیص تھی۔سر سے ننگے تھے۔میں نے جب پنکھا کرنا شروع کیا تو حضور کے سر کے باریک بال ادھر اُدھر ہرانے لگے۔میں مسیح موعود کے حالیہ والی حدیث سن چکا تھا اس لئے مجھے خیال آیا کہ یہ وہی بال ہیں جس کی حضرت نبی کریم ﷺ نے پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے۔دل میں آیا کہ حضور علیہ السلام کے بالوں کو بوسہ دوں لیکن شرم و حیا مانع رہی۔ادھر مجھے یہ خیال آیا ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے مڑ کر دیکھا حضور مسکرائے اور فرمایا کہ آپ تھک گئے ہوں گے۔آپ بیٹھ جائیں۔( حضور چھوٹوں کو بھی آپ" KA