حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 173
ناہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره صاحب ۱۹۰۳ء میں حصول تعلیم کے لئے قادیان پہنچے۔اس وقت ان کی دلی کیفیات کیا تھیں۔اور قادیان جا کر حضرت مسیح موعود کی قوت قدسیہ نے کیا مسیحائی فرمائی۔اس کی بابت آپ بیان فرماتے ہیں :- ۱۹۰۳ء میں جب میرے والد بزرگوار حضرت ڈاکٹر سید عبدالستارشاه صاحب نے مجھے اور میرے بھائی سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو برائے تعلیم بھیجا تو ہم رعیہ سے قادیان کی طرف بڑے شوق اور خوشی سے روانہ ہوئے۔اس وقت ہماری عمر ۱۱ او ۳ سال کے لگ بھگ تھی۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے کا شوق بہت تھا۔مگر ہمارے اس شوق کو صدمہ پہونچا جب ہم چوہڑوں کی تشفی کے پاس پہونچے ( جواب محلہ دارالصحت کہلاتا ہے۔اور جس کے مکین اب بفضل تعالیٰ قریباً سارے (احمدی) کہلاتے ہیں ) تو قادیان کو بے رونق اور سنسان سا گاؤں پایا۔مدرسہ میں داخل ہوئے تو اس میں بھی کوئی روافق نہیں تھی۔کچھ دیواریں چھوٹے چھوٹے کمرے۔ہم نارووال مشن سکول میں پڑھتے تھے جس کی عمارت پختہ اور وسیع کمروں پر مشتمل تھی۔اس کے بالمقابل ہائی سکول کی۔عمارت بھیانک سی معلوم ہوئی۔نارووال ایک بارونق شہر تھا۔قادیان کے متعلق ہمارے دماغوں میں یہ تصور تھا۔کہ حضرت امام مہدی کا شہر بہت بارونق ہوگا۔مگر اس میں کچھ بھی نہ تھا۔طبیعت اداس ہونے لگی۔اور باجماعت نمازوں کی پابندی نے اور بھی تکلیف دہ صورت اختیار کر لی۔خصوصاً عشاء اور فجر کی باجماعت نمازوں میں شریک ہونا تو بہت ہی دو بھر تھا۔ایک بار عشاء کے وقت جب مانیٹر نے ہمیں جگانا شروع کیا تو میں نے جھنجھلا کر اسے ایک تھپڑ رسید کیا۔اور بھائی حبیب بولے کہ ہم کس مصیبت میں پھنس گئے۔مگر چھ ماہ نہیں گزرے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیضان نے ہماری روحوں میں کچھ ایسا جادو بھرا اثر کیا کہ ہم دونوں بھائیوں نے با قاعدہ تہجد بھی پڑھنی شروع کر دی اور گھنٹوں نماز میں ۱۷۵